دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎  یعنی عرض کیا یارسول الله میت کی بیوی حضور کو بلا رہی ہے کھانے کی دعوت نہیں تھی جیساکہ الفاظ حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ بات خیال میں رکھی جاوے۔

۳؎ یہاں کھانا دعوت کے طور پر نہیں پکایا گیا تھا نہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو دعوتِ طعام کے لیے بلایا گیا تھا اس کے گھر حضور تشریف لے گئے تھے کھانے کا وقت تھا اس نے کھانا بھی پیش کردیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت والوں سے دعوت لینا ممنوع ہے۔اس مسئلہ کی بہت صورتیں ہیں:(۱)بعض وارث نابالغ ہوں(۲)بعض وارث غائب ہوں(۳)قوم دعوت دینے پر مجبور کرے کہ میت کی روٹی دے(۴)اہلِ میت رواج کے ماتحت شرم و حیاء سے روٹی دیں،پہلی دو صورتوں میں دعوت دینا دعوت کھانا دونوں حرام ہیں کہ اس میں یتیم کا مال کھانا ہے اور غائب کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا ہے،آخری دو صورتوں میں کھانا مکروہ ہے اگر یہ چار صورتیں نہ ہوں مثلًا مہمانوں کے لیے کسی خاص وارث نے یا سارے بالغ وارثوں نے کھانا پکادیا یا اتفاقًا کسی کو کھلا دیا تو بلا کراہت جائز ہے۔یہاں جو واقعہ بیان ہورہا ہے اس میں یہ چاروں صورتیں نہ تھیں لہذا فقہاء کا یہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔

مسئلہ: میت کا کفن دفن اس کے سارے مال سے کیا جاوے مگر اس کی نیاز فاتحہ میں یہ خیال رکھا جاوے کہ اگر بعض وارث یتیم نابالغ یا غائب ہوں تو اولًا متروکہ مال تقسیم کیا جاوے پھر بالغین حاضرین اپنے حصہ میں سے نیاز فاتحہ کریں اور یہ کھانا صرف فقراء مسکین کو کھلایا جاوے۔غرضکہ میت والوں کے ہاں کھانے کی بہت صورتیں ہیں:بعض حرام ہیں،بعض مکروہ،بعض مباح ہیں یہاں مکمل تفصیل کی گنجائش نہیں۔

۴؎  قوم سے مراد صاحبِ خانہ کے مہمان ہیں جن کے لیے کھانا تیار کیا گیا تھا اور وہ صحابہ کرام جو حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے جو اتفاقًا وہاں پہنچ گئے تھے اور کھانے میں شریک ہوگئے تھے۔

۵؎  یعنی لقمہ منہ میں لے لیا چبایا منہ میں گھمایا مگر نگلا نہیں ہم نے یہ محسوس کرلیا تو یا تو کسی نے حضورصلی الله علیہ وسلم سے پوچھا یا حضور انور نے خود ہی وہ فرمایا جو آگے آرہا ہے۔

۶؎  یعنی یہ گوشت نہ تو حرام جانور کا ہے نہ مردار کا مگر ایسا ہے جس میں احتیاط نہیں برتی گئی۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور انور کو پس پردہ چیز کی خبر دی گئی وہاں وحی الٰہی نہیں آئی تھی بلکہ زبان شریف نے گوشت کی لذت کے ساتھ اس کی کیفیت بھی محسوس کرلی۔دوسرے یہ کہ الله تعالٰی نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے حلق اور شکم کو ہمیشہ حرام بلکہ مکروہ بلکہ مشتبہ بلکہ غیر احتیاطی چیزوں سے محفوظ رکھا،بخاری شریف میں سے کہ بچپن شریف میں حضور نے کبھی بتوں کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت نہیں کھایا۔خیال رہے کہ کفار کی مشترک کمائیاں مؤمن کے لیے حلال ہیں لہذا حضور انور کا ابو طالب کے ہاں اور موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے ہاں پرورش پانا یوں ہی حضور انور کا کفار کے ہدیے قبول فرمانا بالکل درست تھا،اب بھی ایسے مشترکہ مال والے کی دعوت کھالیناجائز ہے۔

۷؎  نقیع نون سے مدینہ پاک کے قریب وادی عقیق کی طرف ایک بازار تھا جہاں اور چیزوں کے ساتھ جانور بھی فروخت ہوتے تھے۔جن لوگوں نے بقیع ب سے پڑھا غلط ہے بقیع تو مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان ہے وہاں بازارکہاں یہ تفسیر کسی راوی کی ہے۔

۸؎  یعنی میرا پڑوسی اپنے لیے ایک بکری خرید کر لایا تھا میں نے کہلا کر بھیجا تھا کہ وہ بکری میرے ہاتھ فروخت کردے کہ مجھے اس کی فوری ضرورت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن