30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ صبر سے مراد علاج نہ کرنا نہیں بلکہ رب کی شکایت نہ کرنا گھبراہٹ ظاہر نہ کرنا ہے دوا اور دعا صبر کے خلاف نہیں بے صبری چیز ہی اور ہے۔طلب اجر کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھوں گا کہ رب تعالٰی مجھے اس تکلیف اور صبر پر جنت عطا فرمائے گا۔
۶؎ یعنی اگر تم نے بے صبری پر صبر اور طلب اجر کر لیا تو تم ان لوگوں میں سے ہوؤ گے جو قیامت کے حساب و کتاب سے مستثنٰی ہیں بے حساب جنتی ہیں۔
۷؎ خیال رہے کہ حضور انور کو اس شفا کی بھی خبر تھی مگر آپ نے انہیں بتایا نہیں تاکہ ان کا امتحان اور صبر اعلیٰ درجہ کے ہوں۔ (مرقات)ظاہر یہ ہے کہ دوبارہ انہیں روشنی ملنا دوا اور دعا سے ہوا جو خلاف صبر نہیں۔
|
5940 -[73] وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«من تَقول عَليّ مالم أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ».وَذَلِكَ أَنَّهُ بَعَثَ رَجُلًا فَكَذَبَ عَلَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَيِّتًا وَقد انشقَّ بَطْنه وَلم تقبله الأَرْض. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مجھ پر وہ بات تھوپے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۱؎ یہ اس طرح ہوا کہ آپ نے ایک شخص کو بھیجا اس نے آپ پر جھوٹ باندھ دیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس پر بددعا کردی تو وہ مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ چر گیا تھا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۲؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں۔ |
۱؎ حضور صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کئی صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جان بوجھ کر حدیث گھڑے اور اسے حضور کی طرف نسبت کردے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا،دوسرے یہ کہ کوئی موضوع حدیث بیان کرے اور اس کا موضوع ہونا نہ بتائے۔خیال رہے کہ روایت بالمعنی جائز ہے،یہ وضع حدیث نہیں بلکہ حدیث کا مضمون اپنے الفاظ میں بیان کرنا ہے،ہم کہتے ہیں کہ رب نے فرمایا نماز قائم کرو حالانکہ قرآن مجید اردو نہیں ہے ہمارا یہ قول قرآن کا ترجمہ ہے،اس کی مثال وہ وائل ابن حجر کی روایت ہے آمین کے متعلق رفع بہا صوتہ ترجمہ ہے مدبھا صوتہ کا،راوی نے مد کا ترجمہ رفع کیا اور اسے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا یہ حدیث گھڑنا نہیں یہ فرق خیال رہے۔اپنا گھر آگ میں بنانے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے کو دوزخی سمجھ لے۔جھوٹ بولنا گناہ ہے اور جھوٹ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا بدترین گناہ ہے۔
۲؎ اس شخص نے لوگوں کو جھوٹی حدیث گھڑ کر سنائی حضور انور نے نور نبوت سے جان لیا اس کے لیے بددعا فرمادی،ایسا ہی ہوا کہ اسے بعد موت دفن کیا گیا تو زمین نے نکال کر پھینک دیا۔یہ واقعہ کوئی اور ہے اور وہ کاتبِ وحی جو مرتد ہوگیا تھا کفار کے پاس پہنچا بولا کہ میں اور نبی صلی الله علیہ وسلم مل کر قرآنی آیات گھڑ ا کرتے ہیں اس کا انجام بھی یہ ہوا تھا وہ واقعہ دوسرا ہے۔
|
5941 -[74] وَعَن جابرٍ أنَّ رسولَ الله جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسَقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَفَنِيَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ولقام لكم» رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کھانا مانگنے آیا حضور نے اسے جو کا آدھا وسق عطا فرمایا ۱؎ وہ شخص اس کی بیوی اس کے مہمان اس سے کھاتے رہے حتی کہ اس نے ناپ لیا تو ختم ہوگیا ۲؎ پھر وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا فرمایا اگر وہ اسے نہ ناپتی تو تم سب اس سے کھاتے رہتے تو وہ تمہارے پاس رہتا ۳؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع