30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولی کہیں،رب تعالیٰ فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ لَہُمُ الْبُشْرٰی"الخ تمام زندہ ولی اور اولیاءاللہ کے آستانہ سب اہل سنت میں ہیں۔
|
5756 -[18] وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ: سَيْفًا مِنْهَا وسَيفاً منْ عدُوِّها " رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں کبھی جمع نہیں فرمائے گا ایک تلوار اس کی اپنی اور دوسری تلوار اس کے دشمن کی ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ عمومًا دیکھا گیا ہے کہ اولًا تو مسلمان لڑتے بھڑتے رہتے ہیں مگر جب کفار کا حملہ ہوجاتا ہے تو سب یکدم متفق ہو جاتے ہیں۔۶ ستمبر ۱۹۶۵ء میں بھارت نے بڑی قوت سے اچانک پاکستان پر ڈھائی بجے رات کے حملہ کردیا اللہ تعالٰی نے اس جنگ میں مسلمانوں کو ایسا متفق کردیا کہ یہ لڑنا بھڑنا بھول گئے اور جب اللہ کے فضل سے ہم نے جوابی کاروائی کی تو بھارت کے دانت کھٹے کردیئے ان کے چھ سو ٹینک،بیس ہزار فوج تباہ کردی آخر وہ صلح پر مجبور ہوگئے،سترہ دن جنگ ہوئی اگر کچھ دن جنگ اور رہتی تو ان شاءالله بہت فتح مسلمان پاتے،بڑی طاقتوں نے بیچ میں پڑکر صلح کرادی۔یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور کفار جب کبھی مسلمانوں پر غالب آجاتے ہیں اس کی وجہ ہماری غلطیاں ہماری غفلت ہماری اسلام سے دوری ہوتی ہے،اللہ رسول سچے ہیں مگر ہم جھوٹے ہوجاتے ہیں۔
|
5757 -[19] وَعَن الْعَبَّاس أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ:«مَنْ أَنَا؟» فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ:«أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثمَّ جعلهم فرقتَيْن فجعلني فِي خير فِرْقَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبيلَة ثمَّ جعله بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُهُمْ نفسا وَخَيرهمْ بَيْتا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے شاید انہوں نے کچھ سنا تھا ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے فرمایا میں کون ہوں۲؎ لوگوں نے عرض کیا آپ اللہ کے رسول ہیں،فرمایا میں محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے اچھوں میں سے بنایا۳؎ پھر ان اچھوں کی دو جماعتیں کیں تو مجھے ان کے اچھے فرقہ میں سے بنایا۴؎ پھر ان اچھوں کے کئی قبیلے کیے تو مجھے اچھے قبیلے میں بنایا۵؎ پھر ان اچھوں کے گھر بنائے تو مجھے اچھے گھر والوں میں بنایا ۶؎ تو میں ان سب میں اچھی ذات والا۷؎ اور اچھے گھر والا ہوں۸؎ (ترمذی) |
۱؎ بعض بدباطن منافقوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب و حسب شریف پر کچھ طعنہ کیا تھا جیسے آج عیسائی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جناب ہاجرہ کی نسل سے ہیں اور حضرت ہاجرہ بی بی سارہ یا حضرت ابراہیم کی لونڈی تھیں،اس کی تحقیق ہم پہلے کرچکے ہیں۔حضرت عباس کو یہ طعن سن کر بہت صدمہ ہوا اور حضور انور سے اس کی شکایت کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع