30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ حضور کے اس عمل شریف سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ہر میت مؤمن ہو یا کافر بعد مرنے کے زندوں کا کلام سنتی ہے حتی کہ دفن کرنے والوں کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے جیساکہ باب الدفن میں گزرا۔ دوسرے یہ کہ بعد موت انسان کی ہر طاقت بڑھ جاتی ہے دیکھو ہزارہا من مٹی میں دفن ہونے کے باوجود مردہ آواز بلکہ جوتوں کی آہٹ سن لیتا ہے،اگر زندہ کو اتنی مٹی میں دبا دیا جاوے تو وہ توپ کی آواز بھی نہیں سن سکتا۔تیسرے یہ کہ بعد وفات یا کہہ کر پکارنا جائز ہے۔اس سے وہ لوگ عبر ت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یارسول الله کہنا شرک ہے حالانکہ نماز میں کہا جاتا ہے السلام علیك ایھا النبی۔
۸؎ یعنی مردے کفار یا تو تمہاری برابر سنتے ہیں یا تم سے زیادہ تم سے کم نہیں سنتے،ہاں فرق یہ ہے کہ تم ہم کو جواب سنا سکتے ہو یہ جواب دیتے تو ہیں مگر زندوں کو سنا نہیں سکتے کیونکہ اب وہ ایسی آواز سے بولتے ہیں جنہیں یہ کان نہیں سن سکتے،الله والے مردوں کی آواز سن لیتے ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زندہ بزرگوں کا مردوں کی آوازیں سننا ثابت ہے۔خیال رہے کہ جن آیات میں مردوں کے سننے کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کفار ہیں جیسے"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"وغیرہ کیونکہ اس آیت کے آخر میں ہے"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"یعنی وہاں مردے کا مقابلہ مؤمن سے کیا گیا ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔سماع موتی کے ثبوت میں بہت سی آیات ہیں دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔
|
5939 -[72] وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدٍ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ وَلَكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟»قَالَ:أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ:«إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَاب».قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ثمَّ ردَّ اللَّهُ بَصَره ثمَّ مَاتَ |
روایت ہے حضرت انیسہ بنت زید ابن ارقم سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب زید کے پاس ایک مرض میں مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے،فرمایا اس بیماری سے تم پر کوئی خطرہ نہیں ۲؎ مگر تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم کو میرے بعد دراز عمر ملے گی۳؎ تو تم نابینا ہوجاؤ گے۴؎ عرض کیا کہ میں صبر اور طلب اجر کروں گا۵؎ فرمایا تو جنت میں بے حساب جاؤ گے ۶؎ فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہوگئے پھر الله نے ان کی نظر لوٹا دی پھر وہ فوت ہوئے ۷؎ |
۱؎ انیسہ الف کے پیش ن کے فتحہ سے،آپ حضرت زید ابن ارقم کی صاحبزادی ہیں،خود تابعین سے ہیں اور زید ابن ارقم صحابی ہیں اس لیے آپ کی کنیت ابو انیسہ بھی ہے اور ابو عمر بھی،انصاری خزرجی ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے،وہاں ۷۸ اٹھتر میں وفات پائی،اٹھاون سال عمر ہوئی رضی الله عنہ۔
۲؎ یعنی تم اس مرض سے وفات نہیں پاؤ گے ابھی تمہاری عمر باقی ہے،یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا علم غیب کہ لوگوں کی زندگی اور موت سے خبردار ہیں۔
۳؎ یعنی تم میرے بعد بہت دراز عمر پاؤ گے۔
۴؎ یعنی تم آخر میں نابینا ہوجاؤ گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع