30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی تاقیامت قطرہ قطرہ ذرہ بتادیا جو پرندہ تاقیامت پر ہلائے گا وہ سب کچھ تفصیل وار بتادیا۔یہ ہے حضور کا علم غیب کلی۔حضور کا یہ معجزہ ہے کہ سارے واقعات صرف ایک دن میں بتادیئے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام گھوڑا کستے کستے پوری زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔اس معجزہ کا نام ہے طی الوقت یہ بھی طی الارض کی طرح ایک معجزہ ہے،کبھی کرامت کے طور پر ولی کے ہاتھ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔
۴؎ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو یہ سارے واقعات یاد نہ رہے کسی کو زیادہ یاد رہے کسی کو کم لہذا ان میں سے کسی کا علم حضور انور کے علم کے برابر نہیں ہوگیا۔خیال رہے کہ تعلیم یعنی سکھانا اور چیز ہے اور خبر دینا یعنی اعلام یا انباء کچھ اور چیز اللہ تعالٰی نے حضور کو ہر چیز سکھادی"وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ"اور حضور نے یہ تمام باتیں لوگوں کو سنادیں بتادیں سکھائیں نہیں "وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"،"فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ" میں یہ ہی فرق ہے۔
|
5937 -[70] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ابْن مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. |
روایت ہے حضرت معن ابن عبدالرحمن سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ فرمایا میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا ہے تو جنات کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی ۱؎ انہوں نے کہا کہ مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ ابن مسعود نے بتایا کہ ان کی خبر ایک درخت نے دی ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی جنات ایک ناری مخلوق ہے جو نظر نہیں آتی۔یہ لوگ حضور انور کا قرآن مجید سننے آئے حضور نے ان کی آمد کی خبر صحابہ کو دی تو یہ تابعی پوچھ رہے ہیں کہ حضور انور کو خبر ان جنات کی آمد کی کس نے دی۔
۲؎ یعنی ان جنات کی آمد کی خبر ایک قریب والے درخت نے دی کہ یارسول اللہ جنات حاضر ہیں حضور پر ایمان لانا چاہتے ہیں تب حضور تشریف لے گئے انہیں قرآن مجید سنایا اور مسلمان کیا،جنات کا یہ واقعہ دوسرا ہے اور قرآن مجید میں جو واقعہ مذکور ہے وہ واقعہ دوسرا" قُلْ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ"۔
|
5938 -[71] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فجعلتُ أقولُ لعُمر أما ترَاهُ فَجعل لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بدر فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ الله قَالَ فَقَالَ عمر فوالذي بَعثه بِالْحَقِّ مَا أخطئوا الْحُدُود الَّتِي حد رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَني الله حَقًا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَن يَردُّوا عليَّ شَيْئا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مکہ مدینہ کے درمیان جناب عمر کے ساتھ تھے تو ہم چاند ایک دوسرے کو دکھانے لگے میں تیز نظر تھا تو میں نے دیکھ لیا میرے سوا کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے۱؎ میں جناب عمر سے کہنے لگا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں آپ اسے نہ دیکھ سکے کہتے ہیں کہ میں اسے عنقریب اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دیکھوں گا۲؎ پھر ہم کو بدر والوں کے متعلق خبریں دینے لگے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم کو ایک دن پہلے کفار کے قتل گاہ دکھاتے تھے فرماتے تھے کہ ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی اور ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی۳؎ جناب عمر فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ لوگ ان حدود سے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھیں بالکل نہ ہٹے۴؎ پھر وہ اوپر تلے ایک کنویں ڈال دیئے گئے ۵؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ان تک پہنچ گئے ۶؎ فرمایا اے فلاں ابن فلاں اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے وہ سب باتیں درست پائیں جن کا تم سے الله و رسول نے وعدہ کیا تھا۷؎ کیونکہ میں نے وہ سب درست پایا جو مجھ سے الله نے وعدہ کیا تھا جناب عمر نے عرض کیا یا رسول الله آپ ان جسموں سے کیسے کلام کرتے ہیں جن میں جان نہیں تو فرمایا بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے بجز اس کے کہ وہ مجھے کچھ جواب نہیں دے سکتے ۸؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع