30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ معلوم ہوا کہ وہ یہود بھی حضور کے علمِ غیب کے قائل ہوچکے تھے تب ہی تو بولے کہ ہمارا جھوٹ آپ پرچھپ نہ سکے گا جو حضور کے علم کا انکار کرے وہ ان یہود سے بدتر ہے۔حضور کو سب کی نسل واصل کی خبر ہے کسی کا بیٹا ہونا ایسی غیبی خبر ہے جسے بجز پروردگار کوئی نہیں جانتا۔حضور کو رب نے یہ بھی بتا دیا ہے۔
۶؎ ان یہود کا عقیدہ یہ تھا کہ جتنے روز ہمارے باپ دادوں نے بچھڑا پرستی کی ہے اتنے روز ہم دوزخ میں رہیں گے پھر نکال کر جنت میں پہنچادیئے جائیں گے،رب فرماتا ہے:"لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوۡدَۃً" مسلمان وہاں ہمیشہ رہیں گے یہ وہ ہی بکواس ہے۔
۷؎ یعنی تم اس خبر میں بھی جھوٹے ہو پہلی خبر واقعہ اور تمہارے علم دونوں کے خلاف تھی یہ خبر واقعہ کے خلاف ہے تمہارے عقیدے کے اگرچہ موافق ہو۔
۸؎ اگرچہ زہر ملانے والی صرف ایک یہودن عورت تھی مگر چونکہ یہ کام ان سب کے مشورہ سے ہوا تھا لہذا سب کا فعل تھا اس لیے ان سے حضور انور نے یہ سوال فرمایا اور انہوں نے یہ مذکورہ جواب دیا اگر وہ لوگ حضور کا علمِ غیب ابھی ابھی آزماچکے نہ ہوتے تو ہر گز اپنا جرم قبول نہ کرتے وہ سمجھ گئے کہ۔ ع ! کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
علیم و خبیر حاکم کے سامنے اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔
۹؎ اس کی شرح ابھی دوسری فصل میں گزر گئی کہ ان یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ دیکھنا چاہا کہ اگر حضور کو زہر مضر نہ ہو تو آپ سچے نبی ہیں انہیں یہ معجزہ دکھادیا گیا۔چنانچہ زینب جو زہر ملانے والی تھی غالبًا وہ اور دوسرے چند یہودی ایمان لے آئے جیساکہ پہلے کہا گیا۔
|
5936 -[69] وَعَن عَمْرو بن أخطَب الْأنْصَارِيّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْفجْر وَصعد الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثمَّ صعِد الْمِنْبَر فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَأَعْلَمُنَا أحفظنا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن اخطب انصاری سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے ہم کو خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے تو ہم کو خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے حتی کہ سورج ڈوب گیا ۲؎ تو ہم کو تمام ان چیزوں کی خبر دی جو قیامت کے دن تک ہونے والا ہے۳؎ فرمایا کہ ہم میں زیادہ جاننے والا وہ تھا جو ہم میں زیادہ حافظ تھا۴؎ (مسلم) |
۱؎ آپ ابو زید اعرج کے نام سے مشہور ہیں،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ غزوات کیے ہیں،حضور نے ان کے سر پر ہاتھ شریف پھیرا اور ان کے لیے دعائے خیر کی،آپ کی عمر شریف سو سال ہوئی مگر سر شریف میں صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔(اشعہ،مرقات)
۲؎ یعنی حضور نے تھوڑے وقفہ کے بعد سارا دن وعظ و خطبہ ارشاد فرمایا،یہ خطبہ احکام کا نہ تھا بلکہ غیبی خبریں دینے کا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع