دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۷؎  یہ ہے حضور انور کی حفاظت کہ حضور نے فرمایا تھا علی وہ تمہارا بال بیکا نہ کرسکیں گے ایسا ہی ہوا ورنہ ایسی افراتفری میں حضرت علی کا شہید ہوجانا بہت ممکن تھا یا وہ طیش میں آکر ہی آپ کو شہید کردیتے مگر کچھ نہ ہوا یسے ہوتا کہ حضرت علی کے سر پر حضور انور کا ہاتھ تھا اور اللہ کی رحمت و حفاظت،تاقیامت جس کی حضور حفاظت فرمالیں اسے دین و دنیا میں امان مل جاتی ہے۔شیطان،شیطانی انسان بلکہ ساری مخلوق سے اسےامن مل جاتی ہے۔اعلیٰ حضرت نے خوب فرمایا۔شعر

خوف نہ کر ذرہ رضا تو تو ہے عبد مصطفی                   تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے

۸؎  سبحان الله! کیسا پیارا سچا جواب ہے یعنی میں نہیں جانتا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں حضرت علی کو کیا خبر تھی کہ حضور ابھی تک مکہ معظمہ میں ہیں یا کہیں باہر تشریف لے گئے جواب نہایت ہی سچا ہے۔

۹؎  خیال رہے کہ کچھ دور تو حضور انور کے ساتھ حضرت صدیق چلے کبھی آپ کے داہنے کبھی بائیں آگے کبھی پیچھے پھر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور نرم زمین پر اپنے پنجوں سے اس طرح چلے کہ جب پنجے اٹھاتے تو گھما کر پنجوں کا نشان مٹاتے جاتے کہ کوئی کھوجیا کھوج نہ لگا سکے کفار کھوج وہاں تک ہی لگاسکے جہاں تک حضرت صدیق ساتھ تھے آگے اپنے اندازے سے گئے پہاڑ پر بھی اندازے سے چڑھے ورنہ پتھریلی زمین میں اور پہاڑ پر نقش قدم نہیں پڑا کرتے۔

۱۰؎  اب بھی وہاں زائرین کے لیے غار ثور مشتبہ ہوجاتا ہے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر چند غار واقع ہیں وہاں کسی رہبر کے بغیر پہنچنا مشکل ہوتا ہے ہم بھی وہاں اللہ کے کرم اور رہبر کے ذریعہ حاضر ہوئے نوافل پڑھے۔

۱۱؎ اس غار کے دروازے پر پہنچ کر بعض کافر بولے کہ اس کے اندر جاکے دیکھ لو تو دوسرے بولے کہ اگر اس میں کوئی گھسا ہوتا توجالا اور کبوتری کے انڈے ٹوٹ جاتے ایک بولا کہ یہ جالا تیری پیدائش سے پہلے کا ہے۔حالانکہ حضور کے اندر پہنچ جانے کے بعد وہ جالا مکڑی نے تنا تھا کبوتری نے انڈے دیئے تھے اگر رب چاہے تو اپنے محبوب کو مکڑی کے جالے کے ذریعہ بچائے غضب کرے تو فرعون کو اس کے قلعہ کی دیواریں نہ بچا سکیں۔بزرگان دین فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتر اسی کبوتری کی نسل ہیں جس نے وہاں انڈے دیئے تھے ان کا اب تک احترام ہے واللہ ورسولہ اعلم۔امام ابوصیری فرماتے ہیں:شعر

ظنوا الحمام وظنوا العنکبوت علی                                      خیر البریۃ لم تنسج ولم تجم

۱۲؎  اس غار کے دو دروازے ہیں کفار اس دروازے پر پہنچے جس سے حضور داخل ہوئے تھے اس دروازے کی لمبائی ایک ہاتھ ہے چوڑائی صرف ایک بالشت یہ فقیر اس غار شریف سے نکلتے وقت دروازے میں پھنس گیا تھا رگڑ سے کچھ سر کے بال اڑ گئے وہاں پہلے بہت سوراخ تھے مگر اب کوئی سوارخ نہیں ہے۔اندر چھ سات آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اس غار میں حضرت صدیق نے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ اگر کفار اپنے قدموں کو دیکھ لیں تو ہم کو دیکھ لیں فرمایا"لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا"جو قرآن کریم نے نقل فرمایا جناب صدیق کو تو اس غار میں مار(سانپ)نے کاٹا حیرت ہے کہ کفار نے جو کچھ کہا حضور انور اور حضرت صدیق نے اندر سب کچھ سن لیا مگر ان حضرات نے جو اندر باتیں کیں وہ کفار نہ سن سکے۔حالانکہ فاصلہ ایک ہی تھا یہ ہے حضور کا معجزہ۔

5935 -[68]

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنه قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لي من كَانَ هَا هُنَا من الْيَهُود فَجمعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صادقي عَنهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا فلَان فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذبْتُمْ بل أبوكم فلَان فَقَالُوا صدقت وبررت قَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ» قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثمَّ تخلفوننا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أبدا ثمَّ قَالَ لَهُم فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: «هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِه الشَّاة سما» . قَالُوا نعم فَقَالَ مَا حملكم على ذَلِك فَقَالُوا أردنَا إِن كنت كذابا نستريح مِنْك وَإِن كنت نَبيا لم يَضرك. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر تھا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں ہیں انہیں ہمارے پاس جمع کرو وہ سب حضور کے آگے جمع ہوئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں کیا تم مجھ سے سچ بولو گے انہوں نے کہا ہاں اے ابو القاسم تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا باپ کون ہے ۲؎ وہ بولے فلاں فرمایا تم نے جھوٹ بولا بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے وہ بولے آپ نے سچ کہا اور درست کہا ۳؎ فرمایا تو کیا اب تم مجھ سے سچ کہو گے جس چیز کے متلعق اگر میں تم سے پوچھو وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم ۴؎ اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں تو آپ پہچان لیں گے جیسے ہمارے باپ کے متعلق پہچان لیا ۵؎ تو ان سے فرمایا کہ آگ والے کون ہیں وہ بولے کچھ دن ہم اس میں رہیں گے ۶؎ پھر اس میں ہمارے نائب آپ لوگ ہوں گے ۷؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ورے ہو اس میں رہو اللہ کی قسم ہم اس میں تمہارے نائب کبھی نہیں بنیں گے ۷؎ پھر فرمایا کہ کیا اب مجھ سے سچ بولو گے اس چیز کے متعلق جو میں تم سے پوچھوں وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا ہے وہ بولے ہاں ۸؎ فرمایا تم کو اس پر کس چیز نے جرأت  دی وہ بولے ہم نے چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پاجائیں اور اگر سچے ہیں تو آپ کو نقصان نہ دے گا ۹؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن