30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5934 -[67] وَعَن ابْن عبَّاس قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوِثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأطلع الله عز وَجل نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَليّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَال. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک رات مکہ میں قریش نے مشورہ کیا ۱؎ بعض نے کہا کہ جب سویرا ہو تو انہیں رسیوں سے باندھ دو یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دوسرے بولے کہ بلکہ انہیں قتل کردو بعض بولے بلکہ انہیں نکال دو ۲؎ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تو جناب علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر یہ رات گزاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ غار پر پہنچ گئے ۳؎ اور مشرکین رات بھر جناب علی کی نگرانی کرتے رہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ۴؎ جب صبح پائی تو ان پر دوڑے ۵؎ پھر جب جناب علی کو دیکھا تو اللہ نے ان کے فریب رد کردیئے ۶؎ بولے تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں ۷؎ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۸؎ چنانچہ وہ سب حضور کے نشان قدم پر کھوج لگاتے چلے۹؎ جب پہاڑ پر پہنچے تو ان پر غار مشتبہ ہوگیا ۱۰؎ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اس غار پر پہنچے اس کے دروازہ پر مکڑی کا جالا دیکھا تو بولے کہ اگر حضور یہاں گھسے ہوتے تو اس کے دروازے پر جالانہ ہوتا ۱۱؎ حضور نے اس میں تین شب قیام فرما یا ۱۲؎ (احمد) |
۱؎ یہ واقعہ ہجرت کی رات کا ہے کہ دارالندوہ میں کفار قریش جمع ہوئے کہ اب اسلام کو ختم کرنے کی آخری تدبیر کیا کرنی چاہیے اس مجمع میں شیطان شیخ نجدی کی شکل میں حاضر تھا ہر ایک کی رائے پر اعتراض کرتا تھا۔ (مرقات)
۲؎ ان تین رایوں میں شیطان نے دو رائیں رد کردیں اور قتل کی رائے پسند کی وہ بولا کہ اگر تم انہیں باندھ دو گے تو ان کے قبیلہ کےلوگ انہیں کھول دیں گے اگر تم انہیں مکہ معظمہ سے نکال دو گے تو وہ اس جگہ پہنچ کر اسلام پھیلائیں گے جہاں جائیں گے۔ بہتر یہ ہی ہے کہ انہیں سب مل کر اچانک قتل کردو۔بنی ہاشم تم سب سے بدلہ نہ لے سکیں گے۔آخر خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے تم سب چندہ کرکے انہیں خون بہا دے دینا اس پر اتفاق ہوگیا اور کفار نے حضور انور کا گھر گھیر لیا اس برے ارادے سے۔(مرقات وغیرہ)قتل کی رائے ابوجہل کی تھی تائید ابلیس کی۔
۳؎ حضور کی خوابگاہ گھیرے اس ارادے سے کھڑے تھے کہ حضور تہجد کے لیے اٹھیں ہم ان پر حملہ کردیں حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ ان خونخواروں سفاکوں کی امانتیں میرے پاس ہیں یہ امانتیں ادا کرکے ہمارے پاس مدینہ منورہ پہنچ جانا۔تم مطمئن رہو تمہارا بال بیکا نہیں کرسکیں گے یہ فرما کر حضور انور ان کفار میں سے انکی جماعت کو چیر کر نکلے یہ پڑھ رہے تھے"فَاَغْشَیۡنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ"وہ سب اندھے ہوگئے اور حضور وہاں سے نکل کر حضرت ابوبکر صدیق کے مکان پر تشریف لے گئے جناب صدیق کو ساتھ لیا غار ثور شریف لے گئے کس طرح گئے یہ حضرت صدیق سے پوچھو کہ وہ حضور کو وہاں کیسے لے گئے راستہ میں کبھی حضور کے آگے چلتے کبھی پیچھے کبھی داہنے کبھی بائیں جدھر خطرہ محسوس کرتے ادھر ہوجاتے آخر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور پہاڑ کی چڑھائی شروع کردی چڑھائی قریبًا دو ڈھائی میل ہے راستہ خطرناک ہے رستہ میں نوکیلے پتھر ہیں اب لوگ دن میں وہاں جاتے ہیں تو بمشکل وہ راہ طے کرتے ہیں۔عشاق اس راستہ کو چومتے ہیں کہ یہاں جناب صدیق کے تلوے لگے ہوں گے۔
۴؎ یہ نگرانی اور محاصرہ اس طے شدہ پروگرام کے ماتحت تھا وہ سمجھے کہ بستر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہے ہیں آپ کے تہجد کے لیے جاگنے کا انتظار کرتے رہے۔
۵؎ یعنی حضرت علی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر چوطرفہ سے ٹوٹ پڑے حملہ آور ہوگئے۔
۶؎ یعنی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم کیا سمجھے تھے اور ہوا کیا وہ کدھر سے نکلے اور نکل کر کہاں گئے عقل کام نہیں کرتی"وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع