30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ خیال رہے کہ ابو مرثد نے فجر کی جماعت میں شرکت نہ کی آج ان کے لیے پہاڑی چوٹی کعبہ تھی اور ان کا وہاں رہنا جماعت تھی۔حضور کی اطاعت اصل عبادت ہے ان کی ترک جماعت پر ہماری لاکھوں باجماعت نمازیں قربان ہوں ان کی قضا پر ہماری ادائیں نچھاور ہوں۔
۱۳؎ ابو مرثد نے آج رات کی کارروائی صحابہ کرام کو بلکہ خود حضور انور کو سنائی۔خیال رہے کہ اپنی عبادت صحابہ کرام یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسنانا نہ تو ریا ہے نہ عبادت ناقص ہونے کا ذریعہ بلکہ یہ تو عبادات کو زیادہ قبول بنانے کا ذریعہ ہے۔حضور انور کی خوشنودی عبادات کا مغز ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"ساری عبادات میں اللہ تعالٰی کی رضا کے ساتھ حضور کو راضی کرنے کی بھی نیت کرو۔
۱۴؎ یعنی میں آج رات پورے طور پر ہی حضور کی طرف سے سپرد کردہ خدمات انجام دیتا رہا ہوں میں سواء نماز یا استنجے کے کسی کام کے لیے بھی نیچے نہیں اترا۔
۱۵؎ یعنی اب اگر تم کوئی نفلی عبادت نہ کرو یا تم اگر اب جہاد نہ کرو تو تمہارے درجے میں کمی نہ ہوگی کیونکہ تم نے آج ایسی بڑی عبادت کرلی یعنی اللہ کے رسول کی حفاظت جس سے تم جنت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئے لہذا عمل سے مراد عمل نفلی یا جہاد نفلی ہے۔(مرقات،اشعہ)مگر فقیر کہتا ہے کہ عمل سے مراد مطلقًا عمل ہے فرض ہو یا نفل کیونکہ نفلی عبادات کا چھوڑنا ویسے بھی مضر نہیں ہوتا نفل تو کہتے ہیں اسے ہیں جس کا کرنا ثواب نہ کرنا گناہ نہ ہو لہذا یہ ہی مطلب ہے کہ اگر تم فرضی عبادات بھی نہ کرو تو تم کو مضر نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت عثمان غنی سے فرمایا تھا کہ تم جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے اس کا مقصد یہ نہیں کہ تم پر فرض عبادات فرض نہ رہیں۔یہ فرمان ایسے ہیں جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہو کہ اڑتا پھر اب وہ اڑے کیسے دل پر قبضہ حضور نے کرلیا اب اس میں ترک عبادت کا خیال کیسے پیدا ہو اس فرمان عالی کے بعد انہوں نے نوافل اور زیادہ شروع کردیئے ہوں گے۔
|
5933 -[66] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لي فِيهِنَّ بِالْبركَةِ فَقَالَ خذهن واجعلهن فِي مِزْوَدِكَ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ چھوارے لایا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ان میں برکت کی دعا فرمادیں ۱؎ تو انہیں حضور نے ملادیا پھر ان میں میرے لیے برکت کی دعا کی ۲؎ فرمایا انہیں لے لو اسے اپنے توشہ دان میں ڈال لو جب اس میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال دو اس میں سے لے لو اور کبھی جھاڑنا مت ۳؎ میں نے ان چھوہاروں میں سے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے ہم ان میں سے کھاتے کھلاتے رہے۴؎ وہ یہ میری کمر سے کبھی جدا نہ ہوئے تھے حتی کہ جناب عثمان کے قتل کا دن ہوا تو وہ مجھ سے گر گیا ۵؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع