دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

شہادت کا درجہ حضور کی قدم بوسی کرے اس لیے اس وقت حضور انور کو اس زہر کی طرف توجہ ہی نہ ہوئی تاکہ تقدیر الہی ظاہر ہو کر رہے۔خیال رہے کہ بعض صحابی یہاں ہی اس زہر سے شہید ہوگئے اور حضور انور پر بوقت وفات زہر عود کر آیا اسی زہر سے حضور انور کی شہادت ہوئی جیسے حضرت صدیق اکبر پر ان کی وفات کے وقت غار ثور کا زہر لوٹ آیا تھا کہ وہاں انہیں سانپ نے کاٹا تھا،وفات دونوں حضرات کی زہر سے ہوئی وفات میں بھی حضرت صدیق کی فنا فی الرسولیت جگمگارہی ہے۔

۳؎  ان کھانے والوں میں سے حضرت بشر ابن براء ابن مارود شہید ہوگئے۔(مرقات)اس لیے مکیدہ کا نام مکیدہ ہے اہل عرب وہاں بہت کم جاتے ہیں وہاں کی آب و ہوا صحت کے خلاف ہے۔

۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ خود گوشت نے حضور کو خبر دی کہ مجھ میں زہر ملا ہے مگر یہ خبر کھالینے کے بعد دی اور اگر کھانے سے پہلے خبر دی ہو تو حضور انور کا کھانا اور صحابہ کو کھانے دینا خودکشی نہیں بلکہ رضا بالقضاء ہے حضور انور جانتے تھے کہ ان لوگوں کا اور ہمارا تکلیف پانا بعض کا وفات پانا ارادہ الٰہی میں آچکا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کا ذبح فرزند فرمانا۔

 ۵؎ یعنی میں نے آپ کا یہ معجزہ دیکھنا چاہا کہ آپ پر زہر اثر نہ کرے میرے نزدیک آپ کی نبوت کا ثبوت یہ تھا کہ آپ کی وفات اس زہر سے نہ ہو۔

۶؎ یعنی اپنی تکلیف کا اس سے بدلہ نہ لیا اور بشرکے وارثوں سے معافی دلوادی انہوں نے قصاص معاف کردیا قصاص مقتول کے وارثوں کا حق ہوتا ہے بعض روایات میں ہے کہ وہ عورت یعنی زینب بنت حارث مسلمان ہوگئی واللہ ورسولہ اعلم اس نے کہا کہ میں نے آپ کی نبوت اس معجزے سے معلوم کرلی میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ ایک ہے آپ اس کے سچے رسول ہیں۔ (مرقات)

۷؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ صرف بشر کی وفات اس زہر سے ہوئی مگر اس جمع کے صیغہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات چند حضرات کی ہوئی۔خیبر میں تیرہ شہداء کے مزارات ہیں میں نے ان کی زیارت کی ہے غالبًا یہ تیرہ حضرات اس وقت کے شہید ہیں واللہ ورسولہ اعلم۔ہوسکتا ہے کہ بشر فورًا موقعہ پر شہید ہوگئے ہوں باقی بارہ صحابہ کچھ دن بعد فوت ہوئے ہوں،اشعۃ اللمعات نے یہ ہی توجیہ فرمائی ہے۔

۸؎  ابو ہند کا نام یسار حجام ہے قرن بمعنی سینگ اس سے مراد ہے سنگی شغرہ چوڑی چھری کو کہتے ہیں۔آپ کا یہ فصد لینا زہر کی گرمی دور کرنے کے لیے تھا گویا علاج تھا۔

5932 -[65]

وَعَن سهل ابْن الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَت عَشِيَّةً فَجَاءَ فَارِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي طَلِعْتُ عَلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تِلْكَ غَنِيمَةٌ الْمُسْلِمِينَ غَدا إِن شَاءَ الله ثمَّ قَالَ مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَقَالَ: «اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَلْ حسستم فارسكم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَسِسْنَا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسلم فَقَالَ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصبَحت اطَّلَعت الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ لَا إِلَّا مُصَلِّيَا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بعدَها» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے۱؎ کہ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو انہوں نے بہت دراز سفر کیا حتی کہ شام ہوگئی ۲؎ تو ایک سوار آیا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو میں نے ہوازن کو دیکھا جو سارے کا سارا قبیلہ اپنی عورتوں جانوروں کے ساتھ حنین میں جمع ہوگیا ہے ۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد کیا کہ انشاء اللہ یہ سب کچھ کل مسلمانوں کی غنیمت ہوگی ۴؎ پھر فرمایا کہ آج رات ہماری حفاظت کون کرے گا ۵؎ انس ابن مرثد غنویٰ بولے یارسول اللہ میں کروں گا ۶؎ فرمایا سوار ہوجاؤ۔چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے فرمایااس گھاٹی کے سامنے جاؤ حتی کہ اس کی بلندی پر پہنچ جاؤ ۷؎ پھر جب ہم نے سویرا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر تشریف لائے دو رکعتیں پڑھیں ۸؎ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اپنے سوار کو محسوس کیا ایک صاحب نے کہا یارسول اللہ ہم نے تو محسوس نہ کیا ۹؎ پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھنے لگے ۱۰؎ حتی کہ جب نماز پوری فرمائی تو فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا سوار آپہنچا ۱۱؎ توہم گھاٹی میں درختوں کی طرف دیکھنے لگے تو ناگاہ وہ آرہا تھا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا ۱۲؎ تو عرض کیا کہ میں چلا حتی کہ میں اس گھاٹ کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا پھر جب میں نے سویرا کیا تو میں ان دونوں گھاٹیوں(پہاڑیوں)پر چڑھ گیا ۱۳؎ تو میں نے کسی ایک کو نہ دیکھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس رات نیچے اترے عرض کیا نہیں سواء نماز کے یا ادا حاجت کے ۱۴؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی عمل نہ کرنا تم کو مضر نہیں ۱۵؎ (ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن