30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ایک بار ہم نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ تجربہ کیا کہ ایک پیالہ کھانا سینکڑوں آدمیوں کو کافی ہوا کہ صبح سے شام تک لوگ اس سے کھاتے رہے سیر ہوتے رہے یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ واقعہ کس وقت اور کس جگہ کا ہے۔
۳؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں فَمِمَّا ہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ یہ برکت کہاں سے آرہی تھی فَمِمَّا کی من ابتدائیہ ہے اور جن نسخوں میں من نہیں ہے تب بھی مطلب یہ ہی ہے کہ وہ کیا چیز تھی جو برکت کا باعث تھی۔
۴؎ غالب یہ ہے کہ سائل ابوالعلاء ہیں اور جواب دینے والے حضرت سمرہ ابن جندب ہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی اور صاحب سائل ہوں جواب دینے والے ابوالعلاء ہوں۔
|
5929 -[62] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ حضرات کی جماعت میں تشریف لے گئے ۱؎ عرض کیا الٰہی یہ ننگے پاؤں ہیں انہیں سواریاں دے الٰہی یہ ننگے بدن ہیں انہیں لباس دے ۲؎ الٰہی یہ بھوکے ہیں انہیں سیر فرمادے اللہ نے حضور کو فتح دی ان غازیوں میں کوئی شخص نہ تھا مگر وہ ایک یا دو اونٹ لے کر لوٹا انہیں کپڑا بھی ملا اور وہ سیر ہوئے۳؎ (ابوادؤد) |
۱؎ مشہور یہ ہے کہ غازیان بدر تین سو تیرہ تھے جن میں ستتر۷۷ مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس۲۳۶ انصاری تھے۔(دیکھو اشعۃ اللمعات)
۲؎ ان بزرگوں کے پاس سامان جنگ حسب ذیل تھا۔شعر
تھے ان کے ساتھ دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں
یہ لشکر ساری دنیا میں انوکھا اورنرالا تھا کہ اس لشکر کا افسر ایک کالی کملی والا تھا
یہ بے سروسامانی دیکھ کر حضور انور نے یہ دعا کی جو قبول ہوئی۔
۳؎ حضور انور کی یہ دعا حرف بہ حرف قبول ہونااور صرف ایک دن کے بعد ہی اس کا ظہور ہونا حضور انور کا معجزہ ہے ان غازیوں کو کپڑا،سواریاں بے شمار ہاتھ آیا اور کفار مکہ اپنے ساتھ کھانے کا سامان،غلہ،اونٹ وغیرہ بہت لائے تھے جنگ کے دن جناب عباس کی طرف سے سارے لشکر کفار کا کھانا پکایا گیا تھا وہ لوگ یہ کھانا نہ کھا سکے کہ شکست کھا گئے ستر مارے گئے،ستر قیدی ہوئے اور باقی بھاگ گئے یہ کھانا پکا پکایا مسلمانوں کے ہاتھ آیا پکایا کفار نے کھایا مؤمنین نے اور کچا راشن جو مسلمانوں کے ہاتھ لگا وہ تو اندازے سے باہر ہے یہ ہی حضور انور کی قبولیت دعا۔
|
5930 -[63] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: «إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَن الْمُنكر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ تمہاری مدد کی جاوے گی اور تم غنیمتیں پانے والے ہو تم کو فتح دی جاوے گی۱؎ تو جو تم میں سے یہ پائے وہ اللہ سے ڈرے بھلائیوں کا حکم دے برائیوں سے منع کرے ۲؎ (ابو دا ؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع