30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5926 -[59] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتَ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ» فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں کیسے پہچانوں کہ آپ نبی ہیں ۱؎فرمایا اگر میں اس خوشہ کو اس درخت سے بلاؤں تو وہ گواہی دے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۲؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ کھجور کے درخت سے اترنے لگا حتٰی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرگیا پھر فرمایا لوٹ جاؤ وہ لوٹ گیا ۳؎ یہ دیہاتی مسلمان ہوگیا ۴؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی مجھے کوئی معجزہ دکھائیں جس سے میں آپ کی نبوت کو پہچانوں۔معلوم ہوا کہ معجزہ نبوت کی دلیل ہوتا ہے دیگر انبیاء کرام کو گنے چنے معجزے عطا ہوئے۔حضور کے معجزات بے شمار گزشتہ نبیوں کے معجزات ان کی وفات پر ختم ہوگئے،حضور کے بہت سے معجزے تاقیامت باقی۔
۲؎ عذق کا ترجمہ اردو میں ہے گُدّھا یعنی درخت کی وہ موٹی شاخ جس میں چھوٹی اور پتلی بہت سی شاخیں ہوں یہ تحقیق ہے مرقات کی مگر لمعات اور اشعہ میں ہے کہ عذق بمعنی خوشہ یہاں بمعنی خوشہ ہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۳؎ یعنی اس خوشہ گچھے کی کھجوریں ایک ایک کرکے آپ کے دامن میں گری پھر اسی طرح اوپر اٹھ گئیں۔اور اپنے خوشہ سے لگ گئی ان کا یہ آنا جانا ہی گویا انکی گواہی تھی۔
۴؎ حضور پر ایمان مختلف ذریعوں سے لوگوں کو حاصل ہوا ہے کوئی آپ کو دیکھ کر ہی ایمان لایا کوئی آپ کے صفات عالیہ میں غور کرکے کوئی آپ کا کلام سن کر اور کوئی صرف نام سن کر کوئی کسی خاص معجزے سے یہ اعرابی اس آخری قسم میں سے تھا جو معجزہ دیکھ کر ایمان لایا۔
|
5927 -[60] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذئبُ على تل فأقعى واستذفر فَقَالَ عَمَدت إِلَى رزق رزقنيه الله عز وَجل أخذتُه ثمَّ انتزعتَه مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذئبا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِن بعدكم وَكَانَ الرجل يَهُودِيّا فجَاء الرجل إِلَى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأسلم وَخَبره فَصَدَّقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا أَمارَة من أَمَارَاتٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَن يخرج فَلَا يرجع حَتَّى تحدثه نعلاه وَسَوْطه مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ |
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیا کسی بکریوں کے چرواہے کی طرف گیا ان میں سے ایک بکری پکڑی اسے چرواہے نے تلاش کیا حتیٰ کہ بکری کو اس سے چھڑالیا ۱؎ فرمایا کہ بھیڑیا ٹیلہ پر چڑھ گیا ہےوہاں بیٹھ گیا اور دم دبالی اور بولا کہ میں نے اس روزی کا ارادہ کیا جو مجھے اللہ نے دی میں نے اسے لیا پھر تو نے وہ مجھ سے چھین لی ۲؎ تو یہ شخص بولا اللہ کی قسم میں نے آج جیسا واقعہ کبھی نہ دیکھا بھیڑیا باتیں کررہا ہے ۳؎ تو بھیڑیا بولا کہ اس سے عجیب تو یہ ہے کہ ایک صاحب دو پہاڑوں کے بیچ کھجوروں کے جھنڈوں میں ۴؎ تم کو ساری گزشتہ اور آنے والی باتوں کی خبر دے رہے ہیں۵؎ وہ شخص یہودی تھا ۶؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو آپ کو یہ خبر دی اور مسلمان ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ یہ قیامت کے آگے نشانیاں ہیں ۷؎ قریب ہے کہ ایک شخص نکلے گا تو نہ بولے گا حتیٰ کہ اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان باتوں کی خبریں دیں گے جو اس کے پیچھے اس کے گھر والوں نے کیں ۸؎ (شرح سنہ) |
۱؎ یعنی چرواہے نے بھیڑیئے کا پیچھا کرکے شور مچا کر اس کو مار پیٹ کر اس کے منہ سے بکری چھڑالی یہ اس کی بہادری تھی ورنہ بلی کے منہ سے چڑیا چھڑانا مشکل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع