30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5925 -[58] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِي فَلَمَّا دنا مِنْهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ قَالَ وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «هَذِهِ السَّلَمَةُ» فَدَعَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهِدْهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ثُمَّ رجعتْ إِلى منبتِها. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی آیا جب قریب ہوا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ۱؎ اور یہ کہ حضور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ بولا جو آپ کہتے ہیں اس پر گواہی کون دیتا ہے ۲؎ فرمایا یہ درخت خار دار ۳؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ جنگل کے کنارہ پر تھا وہ زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا پھر حضور نے اس سے تین بار گواہی لی اس نے تین بار گواہی دی ۴؎ کہ حضور ویسے ہی ہیں جیسے انہوں نے فرمایا پھر اپنے جھاڑی کی طرف لوٹ گیا ۵؎ (دارمی) |
۱؎ یہ سفر یا تو جہاد کا تھا یا عمرے کا کچھ پتہ چلا نہیں(مرقات)تشہد سے پہلے ہمزہ استفہامیہ پوشیدہ ہے۔حضور انور نے اس سے یہ سوال فرمایا۔
۲؎ یعنی انسانوں کے علاوہ اور کون شخص ہے جو آپ کی نبوت پر گواہی دے(اشعہ)اس نے نبی کے اختیاران کی سلطنت خدا داد دیکھ کر مسلمان ہونا چاہا۔
۳؎ سلمہ کا ترجمہ ہے ببول(کیکر)جس کے پتوں کو عربی میں قرظ کہتے ہیں جس سے کھال رنگی جاتی ہے یعنی پکائی جاتی ہے،اس کی جمع سلام ہے بغیر ت کے۔(مرقات)
۴؎ یہ گواہی وہ بدوی اپنے کانوں سے سن رہا تھا اس کا آنا جانا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے ایک معجزہ مانگا تھا حضور انور نے اسے دو معجزے دکھائے درخت کا آنا جانا،گواہی دینا ورنہ ہو سکتا تھا کہ حضور خود اس درخت کے پاس جاتے اس سے گواہی لے لیتے۔
۵؎ اس واقعہ کو امام بوصیری نے قصیدہ بردہ شریف میں یوں بیان فرمایا ہے۔
جاء ت لدعوتہ الاشجار ساجدۃ تمشی الیہ علی ساق بلا قدم
حضرت حسان یوں بیان فرماتے ہیں ؎
نطق الحجر جاء الشجر شق القمر باشارتہ
|
5926 -[59] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتَ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ» فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں کیسے پہچانوں کہ آپ نبی ہیں ۱؎فرمایا اگر میں اس خوشہ کو اس درخت سے بلاؤں تو وہ گواہی دے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۲؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ کھجور کے درخت سے اترنے لگا حتٰی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرگیا پھر فرمایا لوٹ جاؤ وہ لوٹ گیا ۳؎ یہ دیہاتی مسلمان ہوگیا ۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع