30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5922 -[55] وَعَن يعلى بن مرَّةَ الثَّقفي قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَه إِذ مَرَرْنَا بِبَعِير يُسْنَى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ قَالَ أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العلفِ فَأحْسنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثمَّ سرنا فنزلنا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَقَالَ هِيَ شجرةٌ استأذَنَتْ ربّها عز وَجل أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمنخره فَقَالَ اخْرُج إِنِّي مُحَمَّد رَسُول الله قَالَ ثمَّ سرنا فَلَمَّا رَجعْنَا من سفرنا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعثك بِالْحَقِّ مَا رأَينا مِنْهُ رَيباً بعْدك. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ ثقفی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں دیکھیں جب کہ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ پر گزرے جس پر پانی دیا جارہا تھا۲؎ تو جب حضور کو اونٹ نے دیکھا تو چیخا اپنی گردن رکھ دی۳؎ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے،فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے وہ حضور کے پاس آیا فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دے۴؎ اس نے کہا یارسول اللہ ہم یہ حضور کو ہبہ کرتے ہیں یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ۵؎ فرمایا جب تم نے اس کا یہ حال بیان کیا تو اس نے زیادتی کام اور چارہ کی کمی کی شکایت کی تم اس سے اچھا سلوک کرو ۶؎ پھر ہم چلے حتی کہ ایک منزل میں اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ پر سایہ کرلیا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا۷؎ پھر جب بیدا ر ہوئے تو میں نے حضور سے یہ ذکر کیا فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے یہ اجازت چاہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے تو اسے اجازت دے دی ۸؎ راوی نے کہا کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو آپ کے پاس ایک عورت اپنا بچہ لائی جسے دیوانگی تھی ۹؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بانسہ پکڑا پھر فرمایا کہ نکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۱۰؎ پھر ہم چلے تو جب لوٹے تو اس گھاٹ پر گزرے اس سے بچہ کے متعلق پوچھا وہ بولی اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے بعد ہم نے اس سے کوئی شبہ کی چیز نہ دیکھی ۱۱؎ (شرح سنہ) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،حدیبیہ،فتح خیبر،حنین،طائف وغیرہ کے جہادوں میں حاضر رہے آپ نے ایک سفر میں حضور کے تین معجزے دیکھے اس کا بیان فرمارہے ہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ کس سفر میں تھے اور یہ واقعہ کب کا ہے۔
۲؎ یُسنٰی بنا ہے سنی سے بمعنی کھیت کو پانی دینا اسی سے ہے سانیہ وہ اونٹنی جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے۔
۳؎ اونٹ کی لمبی گردن سینے سے سر تک کو حبران کہتے ہیں یعنی وہ حضور انور کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنی ساری گردن زمین پر بچھادی اس نے اس طرح اپنی انتہائی عاجزی ظاہر کی۔
۴؎ اسے ہم پال لیں گے یہ تیرے ہاں تنگ ہے حضور آفت زدوں کے غم خوار ہیں۔بیکسوں کے غمگسار جن کی کوئی قیمت نہ ہو ان مولے ہوں ان کے خریدار ہیں۔شعر
بے یار ومددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا
۵؎ یعنی ان لوگوں کا سہارا ان کا گزارہ اس اونٹ سے ہے حضور چاہیں تو قبول فرمالیں ہم کو کوئی عذر نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع