30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کنارہ کے لوگ سایہ سے نکل کر دھوپ میں ہوگئے تاکہ سب کو اس معجزہ کا مشاہدہ ہو مرقات نے فرمایا کہ اس وقت بادل ہٹ گیا اور درخت کا سایہ حضور پر پڑنے گا۔
۱۳؎ بحیرہ نے کہا کہ ان کی شہرت دنیا بھر میں پہنچ چکی ہے رومی کفار ان کے درپئے آزار ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو قتل کردیں ان کی حفاظت کرو مکہ واپس بھیج دو۔ابو طالب نے منظور کرلیا،حاکم کی روایت میں ہےکہ اس دوران میں راہب کو سات رومی ملے جو حضور انور کے قتل کے ارادے سے اس طرف آتے تھے انہیں بھی کاہنوں نے پتہ بتایا تھا کہ نبی آخر الزماں اس ماہ اس راستہ سے گزریں گے بحیرہ نے بمشکل انہیں واپس کیا(اشعہ)
۱۴؎ ابن حجر نے اصابہ میں فرمایا کہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے راوی سارے ثقہ ہیں اتنی عبارت کہ ابوبکر صدیق نے بلال کو حضور انور کے ساتھ بھیجا کسی کی ملائی ہوئی ہے یہ باطل محض ہے کیونکہ بلال تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ڈھائی سال حضور سے چھوٹے تھے۔اس وقت حضور انور کی عمر بارہ سال تھی تو جناب صدیق کی عمر ساڑھے نو سال تھی۔غرضکہ اتنی روایت غلط ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
۱۵؎ امام قیروی کعب نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد کے تمام راوی مسلم بخاری کے راوی ہیں سارے ثقہ ہیں۔(اشعہ)
|
5919 -[52] وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا ہم اس کے بعض اطراف میں گئے ۱؎ تو کوئی درخت پتھر آپ کے سامنے نہ آیا مگر وہ کہتا تھا یارسول اللہ آپ پر سلام ہوا ۲؎ (ترمذی،ودارمی) |
۱؎ غالبًا یہ واقعہ ظہور نبوت کے بعد کا ہے آپ کسی کام کے لیے حضور کے ساتھ مکہ کے اطراف میں گئے تھے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ درختوں پہاڑوں پتھروں کا یہ سلام حضرت علی نے خود سنا لہذا اس واقعہ میں حضور کے معجزے حضرت علی کی کرامت دونوں کا ذکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عرض کرنا کہ الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ شرک یا حرام نہیں بالکل جائز ہے اسے تو پتھر درخت بھی حرام نہیں سمجھتے اس کے منکر ین پتھروں جانوروں سے بھی بدتر ہیں ہم نماز میں پڑھتے ہیں السلام علیك ایہا النبی۔
|
5920 -[53] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُلْجَمًا مُسْرجاً فاستصعب عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيل: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا؟قَالَ: فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس رات جس رات میں معراج کرائی گئی براق لایا گیا لگام و زین دیا ہوا تو آپ پر اس نے سرکش کی۱؎ تو اس سے جبریل نے کہا کہ کیا محمد کے ساتھ تو یہ کرتا ہے ۲؎ ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا تجھ پر کوئی نہیں سوار ہوا ۳؎ فرمایا وہ پسینہ سے نچوڑ گیا(۴)(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع