30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ طی ایک قبیلہ کا نام ہے جس سے حاتم طائی تھا یہ قبیلہ ملک یمن میں تھا یہ دونوں پہاڑ اس ہی جگہ واقع ہیں ان میں سے ایک کا نام آجاء ہے دوسرے کا نام سلمٰی بعض نے کہا کہ سلمی پہاڑ نجد میں ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ دونوں پہاڑ یمن ہی میں ہیں(مرقات)یہ حضور انور کا معجزہ ہے بلکہ دو معجزے ہیں۔
۷؎ یہ حضور کا تیسرا معجزہ ہے کہ حضور انور کا اندازہ ایسا درست تھا کہ اس میں ایک تولہ کا بھی فرق نہ ہوا یہ محض اندازہ نہ تھا ورنہ کچھ فرق ہوتا بلکہ یہ حضور انور کا علم غیب تھا۔
|
5916 -[49] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهَا ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ: ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ". قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بن شُرَحْبِيل بن حَسَنَة وأخاه يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم مصر فتح کرو گے ۱؎ وہ وہ جگہ ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ۲؎ تو جب تم اسے فتح کرو تو اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا ۳؎ کیونکہ اس کا احترام ہے اور قرابت داری ہے یا فرمایا کہ سسرالی رشتہ ہے ۴؎ پھر جب تم دو شخصوں کو اینٹ بھر جگہ میں جھگڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا ۵؎ راوی نے فرمایا کہ میں نے عبدالرحمن ابن شرحبیل ابن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو دیکھا گیا کہ وہ ایک ایک اینٹ بھر جگہ میں جھگڑ رہے تھے تو میں وہاں سے نکل گیا۶؎(مسلم) |
۱؎ مصر سے مراد یہ ہی مشہور شہر مصر ہے جہاں یوسف علیہ السلام نے سلطنت فرمائی۔
۲؎ قیراط بہت چھوٹا سا وزن ہے یعنی دینار کا بیسواں حصہ یعنی وہاں کے تاجرین بہت ہی بے مروت ہیں کسی کی رعایت رتی بھر بھی نہیں کرتے قیراط تک کا حساب کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ چند رتی کا ہو یہ کہتے رہتے ہیں اتنی چھٹانک اتنی رتی۔معلوم ہوا کہ اہل مصر معاملات میں بہت سخت ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجر کو سخت گیر ہونا نہیں چاہیے معمولی چیزوں میں تولہ رتی کا حساب نہ کرے سونا چاندی اور چیز ہے اس میں رتی کا بھی حساب لگتا ہے۔
۳؎ یعنی اگرچہ مصر والے معاملات میں سخت ہیں ان کے مزاج بھی سخت ہیں طبیعت بھی تیز ہے مگر تم ان کی سختی برداشت کرنا ان سے برتاؤ اچھا کرنا ان کی سختی کا بدلہ نرمی سے کرنا۔
۴؎ یعنی ہم کو مصر والوں سے دو طرح تعلق ہے ایک یہ کہ ماریہ قبطیہ مصر سے آئی تھیں جن کے بطن شریف سے ابراہیم ابن رسول اﷲ پیدا ہوئے لہذا وہاں کے لوگوں کو ہماری طرف سے امان ہے ذمہ بمعنی امان،دوسرا تعلق یہ ہے کہ ہماری دادی صاحبہ حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا مصر ہی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملی تھیں انہیں کی اولاد سے ہم ہیں وہ ہماری دادی کا وطن ہے لہذا ان لوگوں سے ہماری قرابت داری بھی ہے۔صھر کے معنی ہیں سسرالی رشتہ یعنی ہماری لونڈی ماریہ مصر کی ہیں لہذامصر میں ہمارا سسرالی رشتہ ہے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نسبی رشتہ کی طرح سسرالی رشتہ کا بھی احترام کرے،ساس سسر کو اپنا ماں باپ سمجھے،ان کی قرابت داروں کو اپنا عزیز جانے بلکہ انکی بستی کا وہاں کے باشندوں کا احترام کرے کہ وہ ساس و سسر کے ہم وطن ہیں۔دوسرے یہ کہ نبی کے رشتہ داروں بلکہ نبی کے ملک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع