دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5914 -[47] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنا على نَاضِح لنا قَدْ أَعْيَا فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لي مَا لبعيرك قلت: قدعيي فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فزجره ودعا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يسير فَقَالَ لي كَيفَ ترى بعيرك قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ بِوُقِيَّةٍ. فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثمنَهُ وردَّهُ عَليّ.

 

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد کیا میں اونٹ پر تھا ۱؎ جو تھک گیا تھا تو وہ چل سکتا نہ تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ملے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے کہا کہ تھک گیا ہے تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پیچھے چلے اونٹ کو ڈانٹا پھر اس کے لیے دعا کی ۲؎ تو وہ دوسرے اونٹ کے آگے چلنے لگا ۳؎ پھر مجھ سے فرمایا اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو میں نے کہا خیریت سے ہے اسے آپ کی برکت پہنچ گئی فرمایا ۴؎ تو کیا تم اسے ایک اوقیہ میں میرے ہاتھ فروخت کرو گے ۵؎ تو میں نے اونٹ حضور کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کردیا کہ مجھے مدینہ تک اس کی پشت پر سواری کا حق ہو ۶؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے میں صبح کو آپ کے پاس لے گیا مجھے حضور نے اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ناضح بنا نضح سے بمعنی پانی چھڑکنا پانی بکھیرنا،اصطلاح میں ناضح وہ اونٹ ہے جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے اس پر کبھی سواری بھی کرلیتے ہیں یہ اونٹ بھی ایسا ہی تھا۔

۲؎ دعا فرمائی اس اونٹ کو قوت و طاقت ملنے کی اس دعا سے اس اونٹ میں زور آگیا جس کمزور پر نظر فرمادیں اس میں قوت آجاوے۔شعر

 مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود                 مجھ سے بے کس کی قوت پر لاکھوں سلام

۳؎  قد امھا بیان ہے بین یدی کا ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،ابل سے مراد ہیں سارے اونٹ یعنی اب میرا یہ تھکا ماندہ اونٹ دوسرے اونٹوں سے آگے چلتا تھا۔

۴؎ یعنی اب جو میرے اونٹ میں یہ زور آگیا ہے وہ آپ کی طاقت ہے کہ اب یہ روکے نہیں رکتا۔دیتا اﷲ تعالٰی ہی ہے مگر دیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت۔

۵؎  اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور درہم ساڑھے چار آنے کا کل گیارہ روپیہ چار آنہ میں اونٹ کا سودا طے ہوا۔اس زمانہ میں جانوروں کی قیمتیں بہت تھوڑی تھیں۔

۶؎  فقار جمع ہے فقرہ کی بمعنی جوڑ اسی لیے حضور انور کی تلوار کا نام ذوالفقار تھا کہ اس میں جوڑ تھے یہاں اس سے مراد ہیں اونٹ کی پیٹھ کی ہڈیاں یعنی میں فروخت تو کررہا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کروں گا وہاں پہنچ کر حضور کے حوالے کروں گا۔

۷؎  یہ بیع بظاہر بیع بالشرط ہے جوکہ ممنوع ہے مگر درحقیقت یہ بیع تھی ہی نہیں بلکہ وعدہ بیع تھا کیونکہ بیع میں ضروری ہے کہ دو طرفہ ادھار نہ ہو یا قیمت پر یا چیز پر اسی مجلس عقد میں قبضہ ہوجائے۔یہاں نہ حضور انور نے قیمت دی نہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ دیا لہذا یہ بیع نہ تھی بلکہ بیع کا وعدہ تھا مدینہ منورہ آکر اونٹ دینے قیمت لینے پر بیع ہوئی یا یوں کہو کہ یہ لفظًا بیع تھی حقیقتًا نہ تھی اسی لیے حضور کی طرف سے بطور رعایت پیش کی گئی تھی مگر پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بہرحال یہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن