30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب ہی کلمہ پڑھتے ہیں کیا سب جنتی ہیں حضور فرماتے ہیں کہ میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے سارے دوزخی ہوں گے سواء ایک کے۔
|
5913 -[46] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أَنَسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَعَمَدَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ فَصَنَعَتْ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ الله قَالَ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا رِجَالًا سَمَّاهُمْ وَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ قِيلَ لأنس عدد كم كَانُوا؟ قَالَ زهاء ثَلَاث مائَة. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُول لَهُم: «اذْكروا اسْم الله وليأكلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ» قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا. فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ قَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ. فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِين رفعت. |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جناب زینب کے نکاح میں نوشاہ تھے ۱؎ میری ماں ام سلیم نے کچھ چھوارے گھی اور چیز کا ارادہ کیا اس سے حلوہ بنایا اسے ایک پیالہ میں ڈالا ۲؎ بولیں اے انس یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے جاؤ عرض کرو کہ میری ماں نے یہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑا سا ہدیہ ہے ۳؎ اے اﷲ کے رسول چنانچہ میں گیا اور میں نے یہ کہا فرمایا اسے رکھ دو ۴؎ پھر فرمایا جاؤ ہمارے پاس فلاں فلاں کو اور فلاں کو بلا لاؤ جن کا حضور نے نام لیا اور جس سے تم ملو ہمارے پاس بلا لاؤ ۵؎ میں انہیں بھی بلا لایا جس کا نام لیا تھا اور اسے بھی جس سے میں ملا پھر میں لوٹا تو گھر حاضرین سے بھرا ہوا تھا ۶؎ جناب انس سے کہا گیا کہ کتنے شمار کے لوگ تھے فرمایا قریبًا تین سو ۷؎ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ اس حلوہ پر ہاتھ رکھا اور جو اﷲ نے چاہا وہ پڑھا ۸؎ پھر حضور دس دس کو بلانے لگے وہ اس سے کھانے لگے حضور ان سے فرماتے تھے کہ اﷲ کا نام لو اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ۹؎ فرمایا کہ لوگوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے ایک ٹولہ نکلتا تھا دوسرا ٹولہ آتا تھا حتی کہ سب نے کھالیا پھر مجھ سے حضور نے فرمایا اے انس اٹھالو میں نے اٹھالیا جب اٹھایا تو مجھے پتہ نہیں کہ جب رکھا گیا تھا جب زیادہ تھا یا جب اٹھایا گیا ۱۰؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی حضور انور نے جناب ام المؤمنین زینب رضی اﷲ عنہا سے نیا نکاح کیا تھا۔عروس دولہا دولہن دونوں پر بولا جاتا ہے بمعنی نوشاہ یعنی نیا دولہا یا نئی دولہن اس لیے منکر نکیر قبر میں کامیاب ہونے والے مردہ سے کہتے ہیں نم کنومۃ العروس خواہ مرد ہو یا عورت۔
۲؎ مشکوۃ شریف کے عام نسخوں میں تور ہے ت کے ساتھ بعض نسخوں میں یور ہے ی سے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی بڑا پیالہ جس میں پانی بھی پیا جاوے سالن بھی کھایا جاوے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع