30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کیونکہ گرمی سخت تھی،پانی کی کمی تھی،سفر دراز تھا اور منزل پر پہنچ کر پانی ملنے کی امید تھی کہ وعدہ اس کا کیا گیا تھا اس لیے کوئی کسی کی طرف دھیان نہ کرتا تھا۔راستہ طے کرنے کی ہر ایک کو فکر تھی۔
۳؎ ابھار بنا ہے بھرۃ سے بمعنی حصہ،ابہار کے معنی ہیں ایک حصہ گزر گیا یعنی زیادہ گزر گیا تھوڑا حصہ باقی رہ گیا گویا رات کا آخری حصہ آگیا۔
۴؎ یعنی نیند کا غلبہ ہے ہم لوگ سوتے ہیں تم میں سے بعض حضرات نماز فجر کا خیال رکھیں پو پھٹ جانے پر ہم کو بیدار کردیں۔
۵؎ یعنی سب لوگ سوتے رہ گئے حتی کہ دن چڑھ گیا تب سب سے پہلے حضور انور کی آنکھ کھلی۔خیال رہے کہ حضور انور کا سوتا رہ جانا غفلت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس رات رب نے اپنے محبوب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا جس سے آپ کی توجہ اس دنیا کی طرف نہیں رہی اور نماز قضا ہوگئی تاکہ لوگوں کو نماز قضا پڑھنے کا طریقہ آجائے اس قضا میں بھی تبلیغ تھی،اس قضا پر ہزاروں ادائیں قربان لہذا یہ حدیث اس فرمان کے خلاف نہیں کہ ہماری صرف آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتا ہے۔
۶؎ اس جگہ سے آگے چلنا چند وجہوں سے تھا: ایک یہ کہ ابھی وقت مکروہ تھا اور سفر ضروری تھا خیال فرمایا کہ وقت کراہت بھی نکل جاوے اور کچھ سفر بھی طے ہوجاوے،دوسرے یہ کہ آئندہ معجزہ اس جگہ پہنچ کر دکھانا تھا اس معجزہ کے لیے وہ جگہ ایسی موزوں تھی جیسے شق القمر دکھانے کے لیے صفا پہاڑ۔،تیسرے یہ کہ یہاں نماز قضاء ہوئی تھی اس جگہ سے جلد ہٹ جائیں دوسری جگہ جا کر پڑھیں۔(از مرقات)مگر پہلی دو وجہیں قوی ہیں۔
۷؎ بیضاۃ دراصل موضاۃ تھا بمعنی وضو کا آلہ وضوء سے بدلا گیا۔خیال رہے کہ حضور کی نیند وضو نہیں توڑتی یہاں وضو کسی دوسری وجہ سے ٹوٹا ہوگا یا وضو پر وضو کیا ثواب کے لیے نبی کی نیند وضو نہیں توڑتی شہید کی موت غسل نہیں توڑتی۔
۸؎ یعنی اس برتن پر ہمارا ایک ایسا معجزہ ظاہر ہوگا جس کے قصے تا قیامت رہیں گے۔نباء کہتے ہیں شاندار خبر کو اس سے ہے نبی یعنی شاندار خبر والے خبر رکھنے والے یا خبر دینے والے یا خبر لینے والے۔
۹؎ اس سے دو مسئلے فقہی معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ادا نماز کی طرح قضا نماز کے لیے بھی اذان کہی جاوے گی۔دوسرے یہ کہ اگرچہ سارے ساتھی نمازی نماز کی جگہ جمع ہوں پھر بھی اذان کہی جاوے گی بلکہ اگر کوئی شخص جنگل میں اکیلے نماز پڑھے تب بھی اذان کہہ لے کہ اس کے ساتھ فرشتے نماز پڑھیں گے اور جہاں تک اذان کی آواز پہنچے گی وہاں تک کا ہر ذرہ ہر قطرہ اس کے ایمان کا گواہ بن جاوے گا۔
۱۰؎ اس عمل شریف سے فقہی مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر فجر کے فرض اور سنتیں دونوں قضا ہو گئی ہوں اور زوال سے پہلے قضا کرناہوں تو سنتوں کی بھی قضا کرےلیکن اگر فر ض ادا کرلیے سنتیں رہ گئیں تو بھی سنتوں کی قضا نہیں اور اگر دونوں رہ گئے تھے بعد زوال قضا پڑھیں تو بھی سنتوں کی قضا نہیں۔(کتب فقہ)
۱۱؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چند صحابہ کرام حضور انور کے ساتھ تھے جو نماز فجر کی قضا میں حضور کے ساتھ رہے اور عام صحابہ آگے بڑھ گئے تھے،ریگستان کے سفر میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ یہ سفر جلدی طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں آگے جا کر وہ حضرات ٹھہر گئے اور حضور انور مع ان ساتھیوں کے ان سے جا ملے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع