30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ آیات سے مراد حضور انور کے معجزات ہیں اس ہی لیے یہ حدیث باب المعجزات میں لائی گئی بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد آیات قرآنیہ ہیں آپ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"وَ مَا نُرْسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیۡفًا"اور رب کے اس فرمان کی طرف بھی اشارہ ہے"وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرْسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ"۔مقصد یہ ہے کہ تم ان قرآنی آیات سے یہ مت سمجھ لینا کہ معجزات ڈرانے یا قوموں پر عذاب کے لیے ہی آتے ہیں جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی وغیرہ بلکہ مؤمنین کے لیے رحمت ہوتے ہیں اور سرکش معاندین کے لیے عذاب،جو معجزہ مانگیں اور دکھائے جانے پر ایمان نہ لائیں ان پر عذاب آجاتا ہے۔
۲؎ یعنی کسی برتن میں کسی کے پاس کچھ بچا کھچا پانی ہو تو لاؤ۔خیال رہے کہ یہاں برکت کا معجزہ دکھانا مقصود تھا اس لیے پانی منگایاورنہ آپ کو اس پانی کی ضرورت نہ تھی سوکھے برتن میں بھی پانی پیدا ہوسکتا تھا۔
۳؎ یعنی یہ پانی پاک اور پاک گر بھی ہے اور برکت والا بھی ہے کہ تھوڑا پانی سب کو کافی ہوگا اور تمام پانیوں سے افضل و اعلیٰ بھی ہے کہ ہماری انگلیوں سے اس کا چشمہ پھوٹا ہے۔دنیا میں تین پانی بڑے افضل ہیں۔(۱) یہ پانی کیونکہ حضور کی انگلیوں سے جاری ہوا(۲) آبِ زمزم جو جناب اسماعیل کے قدم سے پیدا ہوا،پھر وہ پانی جو حضرت ایوب علیہ السلام کے ایڑی سے پیدا ہوا، رب فرماتا ہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"بعض کے نزدیک پھر وہ پانی جو جناب مریم کے لیے جاری کیا گیا"قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا"۔خیال رہے کہ جس پانی کو اﷲ والوں سے نسبت ہوجاوے اس کی عزت و عظمت ہےاور جس کو بتوں سے نسبت ہو وہ منحوس اگرچہ دونوں پانی اﷲ کی مخلوق ہیں آبِ زمزم کی تعظیم ایمان کا رکن ہے اور گنگا کے پانی کی تعظیم کفر ہے کہ علامت کفر ہے۔
۴؎ اس حدیث کی تائید وہ آیت کریمہ کرتی ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ" بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک مٹھی کنکریاں لیں تو ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی ہم سب نے سنی حضور انور نے ان حضرات کے کانوں سے حجاب اٹھادیئے جس سے انہوں نے یہ تسبیح سن لی حضور کی نظر حضور کا ہاتھ حضور کی توجہ عالم غیب کا مشاہدہ کرادیتے ہیں حضور خچر پر سوار ہوگئے تو اس کی آنکھوں نے قبرکا عذاب دیکھ لیا مردے کی چیخ و پکار سن لی۔
|
5911 -[44] وَعَن أبي قتادةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِّيَتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ فَمَالَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ ارْكَبُوا فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ معي فِيهَا شيءٌ من مَاء قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ قَالَ وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ وَرَكِبَ وَرَكِبْنَا مَعَهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٌ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا وَعَطِشْنَا فَقَالَ لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ لِيَ اشْرَبْ فَقُلْتُ لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ الله قَالَ إِن ساقي الْقَوْم آخِرهم شربا قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا فِي صَحِيحِهِ وَكَذَا فِي كتاب الْحميدِي وجامع الْأُصُولِ وَزَادَ فِي الْمَصَابِيحِ بَعْدَ قَوْلِهِ آخِرُهُمْ لَفْظَة شربا |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ تم اپنی رات بھر اور کل تک چلتے رہو گے اور ان شاءاﷲ کل پانی پر پہنچو گے ۱؎ تو لوگ چلے اس طرح کہ کوئی کسی پر توجہ نہیں کرتا تھا۲؎ ابو قتادہ فرماتے ہیں جب کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم چل رہے تھے حتی کہ رات آدھی ہوگئی ۳؎ تو آپ راستہ سے ہٹ گئے تو آپ نے اپنا سر مبارک رکھا پھر فرمایا کہ ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا ۴؎ تو پہلے جو صاحب جاگے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تھے جب کہ دھوپ آپ کی پشت شریف میں تھی ۵؎ پھر فرمایا سوار ہو چنانچہ ہم سوار ہوئے پھر چلے حتی کہ جب سورج چڑھ گیا تو حضور اترے پھر وضو کا برتن منگایا جو میرے ساتھ تھا جس میں کچھ پانی تھا تو اس سے وضو کیا ۷؎ ہلکا وضو کیا عام وضوؤ ں سے کم فرمایا کہ کچھ پانی باقی رہ گیا فرمایا اس برتن کو ہمارے لیے سنبھال کر رکھنا کہ اس سے ایک قابل حکایت معجزہ ہوگا۸؎ پھر جناب بلال نے نماز کی اذان کہی ۹؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فجر کے فرض پڑھے۱۰؎ اور سوار ہوگئے ہم حضور کے ساتھ سوار ہوئے تو ہم لوگوں تک اس وقت پہنچے جب دن چڑھ گیا ۱۱؎ اور ہر چیز گرم ہوگئی لوگ کہہ رہے تھے یا رسول اﷲ ہم ہلاک ہوگئے ہم پیاسے ہو گئے ۱۲؎ تو فرمایا تم پر ہلاکت نہ آئے گی اور وضو کا برتن منگایا تو آپ انڈیلنے لگے اور ابوقتادہ لوگوں کو پلانے لگے دیر نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے برتن میں پانی دیکھ لیا لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۱۳؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اخلاق اچھے رکھو تم سب سیر ہوجاؤ گے ۱۴؎ راوی نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا ۱۵؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم انڈیلنے لگے اور میں پلانے لگا حتی کہ میرے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے سوا کوئی باقی نہ رہا ۱۶؎ پھر انڈیلا مجھ سے فرمایا پیؤ میں نے عرض کیا میں نہیں پیوں گا حتی کہ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ پی لیں تو فرمایا قوم کو پلانے والا آخر میں ہوتا ہے ۱۷؎ فرمایا تو میں نے پیا اور حضور نے پیا،فرمایا راوی نے کہ لوگ پانی پر پہنچے خوب سیرکر راحت یافتہ ۱۸؎(مسلم)ان کی صحیح میں یوں ہی ہے اور ایسے ہی ہے کتاب حمیدی اور جامع الاصول میں اور مصابیح میں آخرھم کے بعد لفظ شربا زیادہ فرمایا ۱۹؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع