30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اٹھ سکا۔شعر
قسم خدا کی نہ وہ اٹھ سکا قیامت تک کہ جس کو تو نے نظر سے گرا کہ چھوڑ دیا
|
5905 - [38] وَعَن أنسٍ أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا وَكَانَ يَقْطِفُ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ:«وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا». فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يُجَارَى وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْم. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک بار اہلِ مدینہ گھبرا گئے ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ابو طلحہ کے سُست گھوڑے پر سوار ہوئے اور وہ اڑتا بھی تھا۲؎ جب حضور لوٹے تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎ پھر اس کے بعد وہ گھوڑا نہیں مقابلہ کیا جاتا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کے بعد کبھی پیچھے نہ رہا ۴؎(بخاری) |
۱؎ یعنی مدینہ والوں میں شور مچ گیا کہ دشمن آگیا خیال ہوا کہ غپان اپنی شامی فوج لے کر مدینہ پر ٹوٹ پڑا اس خیال سے ایک دم گھبراہٹ ہوگئی۔(اشعہ وحاشیہ)
۲؎ کان یقطف یا تو بطیئا کا بیان ہے یعنی وہ گھوڑا قریب قریب قدم رکھتا تھا یا بمعنی اڑیل ہے کہ وہ بمشکل قدم اٹھاتا تھایعنی سست رفتار بھی تھا اور اڑیل بھی۔
۳؎ یعنی یہ گھوڑا دریا کی طرح تیز رفتار بھی ہے اور سبک رفتار بھی کہ سوار کو اس کی رفتار سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔معلوم ہوا جس پر حضور کا قدم پہنچ جاوے وہ سست ہو تو تیز ہوجاتا ہے۔
۴؎ یعنی حضور انور کا یہ فیض اس گھوڑے پر وقتی نہ تھا بلکہ دائمی ہوا کہ آئندہ تاحین حیات وہ گھوڑا کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہ رہا۔سب سے آگے ہی رہتا تھا۔
|
5906 -[39] وَعَن جابرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائه أَن يأخذو االتمر بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي استُشهدَ يَوْم أحد وَترك عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ فَقَالَ لِيَ: " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ طَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ لِي أَصْحَابَكَ» . فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ وَأَنَا أَرْضَى أَن يُؤدِّي الله أَمَانَة وَالِدي وَلَا أرجع إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِني أنظر إِلى البيدر الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهَا لم تنقصُ تَمْرَة وَاحِدَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میرے والد کی وفات ہوئی ۱؎ ان پر قرض تھا میں نے انکے قرض خواہوں سے درخواست کی وہ اپنے قرض کی عوض موجودہ چھوارے لے لیں ۲؎ انہوں نے انکار کیا ۳؎ تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے عرض کیا کہ حضور جانتے ہیں کہ میرے والد احد کے دن شہید ہوگئے اور بہت سا قرض چھوڑ گئے ہیں،میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قرض خواہ دیکھیں۴؎ فرمایا جاؤ ہر قسم کے چھواروں کا ایک ایک طرف ڈھیر لگادو ۵؎ میں نے یہ کام کردیا پھر میں نے حضور کو بلایا جب قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا تو شاید وہ اس گھڑی مجھ پر بھڑک گئے ۶؎ پھر جب حضور نے ان لوگوں کا یہ عمل دیکھا تو ان میں سے بڑے ڈھیر کے آس پاس تین چکر گھومے ۷؎ پھر اس پر بیٹھ گئے ۸؎ پھر فرمایا اپنے قرض خواہوں کو ہمارے سامنے بلاؤ پھر آپ ناپ کراتے رہے ان سب کے لیے حتی کہ اﷲ نے میرے باپ کا سارا قرضہ ادا کردیا ۹؎ میں اس پر راضی تھا کہ اﷲ میرے والد کا قرض ادا کردے میں اپنی بہنوں کو ایک چھوارا بھی نہ پہنچاؤ ں ۱۰؎ مگر اﷲ نے سارے ڈھیر سلامت رکھے اور حتی کہ میں اس ڈھیر کو دیکھتا تھا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تھے گویااس میں سے ایک چھوارا بھی کم نہیں ہوا ۱۱؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع