30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ حضور انور نے دعا کے بعد اپنے اختیار خداداد کا اظہار بھی کیا کہ ایک بار اسی انگلی کے اشارے سے چاند چیر دیا تھا اسی اشارہ سے ڈوباہوا سورج خیبر میں واپس لوٹایا تھا،اسی انگلی کے اشارہ سے جما ہوا بادل پھاڑ دیا اور اسے واپس لوٹادیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہوا دی گئی تھی"فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"حضور کے قبضہ میں ساری خدائی دے دی صلی اﷲ علیہ وسلم۔
۸؎ زمین مدینہ میں پانی ایسا بھرا تھا جیسے تالاب میں بھرا ہوتا ہے اس پانی پر اب دھوپ پڑھ رہی تھی۔(مرقات)یا جوبۃ کے معنی ہیں بڑی گیند یعنی مدینہ کے اوپر آسمان گیند کی طرح ہوگیا کہ یہاں بادل کوئی نہیں آس پاس بادل تھا اور ضرورت کی جگہ برس رہا تھا(اشعہ)جو فرمایا تھا بادل نے وہ ہی عمل کیا۔
۹؎ قناۃ ایک جنگل کا نام ہے اس میں پہاڑی پانی آتا تھا گویا یہ ایک نالہ تھا جو ویسے خشک رہتا تھا بارش میں بہتا تھا۔فرماتے ہیں کہ اتنی بارش ہوچکی تھی کہ ایک ماہ تک پہاڑ سے پانی اس جنگل میں آتا رہا اور یہ نالہ برابر بہتا رہا۔
۱۰؎ معلوم ہوتا ہے کہ اولاً بارش صرف مدینہ منورہ پر ہوئی دوسری دعا سے اردگرد مقامات پر ہوئی اور دوسری دعا کے بعد لوگ جس طرف سے بھی آئے بارش کی خبر لائے۔حضور کا فیضان عام ہوا جس سے دور نزدیک سب نے فائدہ اٹھایا۔شعر
کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو تم ایسے رحمۃ للعالمین ہو
۱۱؎ ان دونوں روایتوں میں تعارض نہیں بلکہ پچھلی روایت میں اجمال ہے اس میں تفصیل۔
۱۳؎ گزشتہ جمعہ کو یہ حضرات دھوپ میں مسجد میں آئے تھے بارش لے کر گھروں کو گئے تھے،آج اس کے برعکس بارش میں مسجد شریف آئے دھوپ میں گھر گئے۔
|
5903 -[46] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ صَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتَّى كَادَت تَنْشَقَّ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ قَالَ بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب خطبہ پڑھتے تو کھجور کے ایک ڈنڈے سے ٹیک لگا لیتے تھے جو مسجد کے ستونوں میں سے تھا ۱؎ پھر جب حضور کے لیے منبر بنادیا گیا تو آ پ اس پر جلوہ گر ہوئے تو جس ڈنڈا کے پاس آپ خطبہ پڑھتے تھے وہ چیخ پڑا حتی کہ قریب تھا کہ چرجاوے ۲؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم منبر سے اترے حتی کہ اسے پکڑا اپنے سے چمٹایاتو وہ سسکیاں بھرنے لگا اس بچے کی سسکیوں کی طرح جسے چپایا جاوے ۳؎ حتی کہ قرار پکڑگیا،راوی نے کہا کہ وہ اس ذکر الٰہی پر رویا جو وہ سنا کرتا تھا ۴؎(بخاری) |
۱؎ اس ستون کا نام اسطوان حنانہ ہے،حنانہ بنا ہے حنین سےبمعنی باریک آواز سے رونا یہ ستون محراب النبی کے بائیں طرف بالکل متصل ہے اب وہاں اینٹ کا ستون ہے اسے اسطوان حنانہ ہی کہتے ہیں۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب منبر نہیں بنا تھا حضور انور زمین پر ہی کھڑے ہو کر خطبہ فرماتے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع