30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ خلوف جمع ہے خالف کی جس کا مادہ ہے خلف بمعنی پیچھے جیسے راقد کی جمع رقود،قاعدہ کی جمع قعود۔خلوف گھر میں رہ جانے والی عورتیں بچے جن کے ساتھ مرد نہ ہوں۔(مرقات)یعنی ہم لوگ یہاں بلا ضرورت ٹھہرے ہوئے ہیں ہمارے گھروں میں بال بچے اکیلے جن سے ہم غائب ہیں دشمنوں کا خطرہ ہے یہ گفتگو بعض ضعفاء مؤمنین کی ہے۔
۳؎ یعنی ہم اپنے بال بچوں سے غائب ہیں مگر بہت سے فرشتے ان کی نگرانی کررہے ہیں نقب زمینی راستہ اور شعب پہاڑی راستہ یہاں مراد ہے مدینہ کے راستہ اور گلی کوچے۔
۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی کی قسم کھانا شریعت میں بلا کراہت درست ہے،یاجس کے نام کی شرعی قسم کھائی جاتی ہےجس پر شرعی احکام مرتب ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ غیر خدا کی قسم لغوی قسم ہوتی ہےنہ کہ شرعی اس پر احکام شرعی جاری نہیں ہوتے جیسے باپ کی قسم اولاد کی قسم۔
۵؎ یعنی بنی غطفان اگر ہماری غیر موجودگی میں حملہ کردیتے تو ہمارے بچوں بیویوں کو بہت تکلیف پہنچ جاتی کہ وہ اکیلے تھے اس وقت انہیں حملہ کرنے سے انہیں کوئی چیز مانع نہ تھی۔معلوم ہوا کہ فرشتوں کی حفاظت ان کو حملہ سے روکے رہی، ۱۹۶۵ء میں بھارت نے رات کے ڈھائی بجے لاہور پر حملہ کیا جب کہ پاک سرحد پر کوئی نہ تھا مگر انہیں خیال ہوا کہ شاید ہم گھیرے میں آرہے ہیں کہ ہمارے سامنے راستے سڑکیں صاف ہیں رک گئے پھر پاک فوج پہنچ گئی اور صبح ہوتے کفار کے کشتوں کے پشتے لگادیئے انہیں سخت جانی و مالی نقصان پہنچا کر پیچھے دھیکل دیا۔یہ ہے اﷲ کی نصرت اس موقعہ پر حضرات اولیاء اﷲ معرکہ میں دیکھے گئے بعض کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی عین محاذ جنگ پرامام حسین،داتا گنج بخش،میاں شیر محمد صاحب شیر قپوری خود بموں کو دفع کرتے دیکھے گئے۔مدینہ منورہ میں لوگوں نے خواب دیکھا کہ حضور انور بہت تیزی سے روضہ اطہر سے نکلے اور روانہ ہونے لگے پوچھا حضور کہاں جارہے ہیں فرمایا پاکستان وہاں جہاد ہورہا ہے اللھم صل وسلم وبارك علیہ۔اﷲ نے حضور کے غلاموں پاکستانیوں کو وہ فتح دی کہ اس کی مثال نہیں ملتی حالانکہ بھارتی فوج پانچ گناہ زیادہ تھی یہ حدیث ان سب واقعات کی اصل ہے۔
|
5902 -[35] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ أَصَابَت النَّاس سنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم يخْطب فِي يَوْم جُمُعَة قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْت الْمَطَر يتحادر على لحيته صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فمطرنا يَوْمنَا ذَلِك وَمن الْغَد وَبعد الْغَد وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» . قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشّمسِ. |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں لوگوں کو سخت قحط سالی پہنچی تو جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے جمعہ کے دن ایک دیہاتی اٹھا بولا یا رسول اﷲ مال برباد ہوگیا اور بچے بھوکے ہوگئے ۱؎ آپ ہمارے لیے اﷲ سے دعا فرمائیں تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے ۲؎ ہم آسمان میں بادل نہیں دیکھتے تھے ۳؎ تو اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضور نے ہاتھ نیچے نہ کیے حتی کہ بادل پہاڑوں کی طرح اٹھا پھر حضور اپنے منبر سے نہ اترے حتی کہ میں نے آپ کی داڑھی پر بارش ٹپکتے دیکھی ۴؎ پھر ہم پر آج اور کل اور پرسوں ہوتی رہی دوسرے جمعہ تک اور یہ ہی بدوی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اﷲ عمارتیں گر گئیں مال ڈوب گئے آپ اﷲ سے دعا کریں ۵؎ تو حضور نے عرض کیا یاالٰہی ہمارے آس پاس برسا ہم پر نہ برسا ۶؎ پھر آپ بادل کے کسی گوشہ کی طرف اشارہ نہ فرماتے مگر وہ چر جاتا۷؎ اور مدینہ تالاب کی طرح ہوگیا ۸؎ اور وادی قنات ایک مہینہ تک بہتی رہی ۹؎ کسی طرف سے کوئی نہ آیا مگر اس نے بارش کی خبر دی ۱۰؎ اور ایک روایت میں ہے کہ الٰہی ہم پر نہ برسا ہمارے آس پاس برسا الٰہی ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور جنگلوں کے اندرون پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۱۱؎ فرمایا تو بارش رک گئی اور ہم دھوپ میں چلنے لگے ۱۲؎(بخاری،مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع