دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5900 -[33]

وَعَن جَابر قا ل: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ» . فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقين قد مَاتَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر سے واپس ہوئے تو جب مدینہ سے قریب ہوئے تو ایک ہوا چلی جو سوار کو دفن کیے دیتی تھی ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہوا ایک منافق کی موت پر بھیجی گئی ہے ۲؎ پھر مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں کا ایک سردار تھا مرچکا تھا ۳؎(مسلم)

۱؎ عرب کے جنگلوں میں کبھی خونی آندھیاں آتی ہیں جو سواروں کو مع سواری ریتے میں دفن کردیتی ہیں مگر یہ آندھی آج مدینہ منورہ کے بالکل قریب آئی اس لیے ہم کو تعجب ہوا کہ یہاں یہ آندھی کیسی۔

۲؎  یعنی یہ تیز ہوا غضب ربانی کے اظہار کے لیے ہے جو صرف اسی منافق کی موت پر بھیجی گئی ہے تاکہ لوگوں کو اس منافق کی موت اس کے عذاب پر مطلع کیا جاوے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ چاند سورج کسی کے مرنے جینے پر نہیں گہتے۔

۳؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ منافق رفاعہ ابن ورید تھا اور یہ سفر غزوہ تبوک کا تھا، بعض نے فرمایا کہ وہ منافق رافع تھا اور سفر غزوہ بنی مصطلق تھا۔(مرقات)اس موت پر ہوا چلنا بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ ہوا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منافق کی موت کی خبر دی اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی موت کو پہچان لینا بھی معجزہ ہے کہ یہ آندھی اس کی موت کی بنا پر چلی۔

5901 -[34]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ فَقَالَ النَّاس: مَا نَحن هَهُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا فِي الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا» ثُمَّ قَالَ: «ارْتَحِلُوا» فَارْتَحَلْنَا وَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يُهَيِّجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے حتی کہ عسفان پہنچے وہاں چند شب قیام فرمایا ۱؎ لوگ کہتے ہیں کہ ہم یہاں کسی کام میں تو ہیں نہیں اور ہمارے بال بچے اکیلے ہم سے غائب ہیں ۲؎ ہم ان پر مطمئن نہیں یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مدینہ میں نہ کوئی گھاٹی ہے نہ کوئی راستہ مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کررہے ہیں ۳؎ حتی کہ ہم لوگ وہاں پہنچے پھر فرمایا کوچ کرو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ پہنچ گئے اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے کہ جب ہم مدینہ پہنچے تو ابھی ہم نے اپنے سامان نہ اتارے تھے کہ ہم پر بنی عبداﷲ ابن غطفان نے حملہ کردیا ۵؎ حالانکہ اس سے پہلےانہیں کوئی چیز نہیں بھڑکاتی تھی۔(مسلم)

۱؎ یعنی ہم مدینہ منورہ واپس ہوتے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ چلے اور منزل عسفان پر چند روز قیام پذیر ہوگئے عسفان مکہ معظمہ سے دو منزل پر ہے اب راستہ میں یہ منزل نہیں آتی یہ پتہ نہیں لگا کہ عسفان میں یہ قیام کیوں ہوا شاید کسی دشمن کا انتظار ہوگا جو کہ وہاں نہ پہنچا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن