30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام جریر ابن عبداﷲ ہے،کنیت ابو عمرو،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے سال اسلام لائے خود فرماتے ہیں کہ میں وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایمان لایا پھر عرصہ تک کوفہ میں رہے پھر شہر قرقبہ میں رہنے لگے وہاں ہی ۵۱ھ اکیاون میں وفات پائی۔(اکمال)اﷲ نے آپ کو صورت و سیرت دونوں کا حسن بخشا تھا۔ (اشعہ)
۲؎ کفار یمن کا ایک قبیلہ تھا خثعم انہوں نے کعبہ معظمہ کے مقابل اپنے ہاں ایک کعبہ بنایا تھا جس کا نام ذوالخلصہ رکھا تھا۔خلصہ وہاں رکھا ہوا ایک بت تھا یا کوئی خاص درخت جس کی وہ پرستش کرتے تھے جیسے بھارت کی ہندو پیپل کی پوجا کرتے ہیں اس گھر کو کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس ذوالخلصہ کی وجہ سے بہت تکلیف تھی کہ کہیں جاہل مسلمان بھی اس کا طواف و حج بھی نہ کرنے لگیں اسلام تا قیامت رہے گا اس لیے اس کا انتظام بھی قوی چاہیے اس لیے حضرت جریر سے یہ فرمایا کہ اسے جا کر فنا کردو۔
۳؎ دیکھو یہ ہے عطاء مصطفویٰ حضرت ابوہریرہ کو زبانی کلمات کے ذریعہ قوت حافظہ بخشی اور حضرت جریر کو انگلیوں کے ذریعہ قوت قلبی بخشی جس سے وہ گھوڑے پر ٹھہرنے لگے حضور کی ہتھیلی اور قدم شریف کی ٹھنڈک ان سے ہی پوچھو جنہیں ایسے موقع ملے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
۴؎ یہ ہے سوال سے زیادہ عطا حضرت جریر نے صرف قوت قلبی مانگی تھی مگر تین نعمتیں عطا ہوئی قوت قلبی اور ہدایت پر قائم رہنا،لوگوں کو ہدایت دینا کہ ان کے ذریعہ لوگ ہدایت پر آویں۔
۵؎ یعنی اس ہاتھ شریف کی برکت سے میں بقیہ عمر بھی گھوڑے سے نہ گرا ؎
تو مرا دل دہ و دلیری بیں روبہ خویش خواں وشیری بیں
حضور مجھے دل بخشو میری دلیری دیکھو مجھے اپنا گیدڑ کہہ دو پھر میری شیری و بہادری دیکھو ؎
ومن یك من رسول اﷲ نصرتہ ان تلقہ الاسد فی اجامھانجم
۶؎ احمس قریش کا ایک خاندان ہے یہ لفظ بنا ہے حماستہ سےبمعنی شجاعت و بہادری اس خاندان کو احمس اس لیے کہتے تھے کہ یہ لوگ دین و دنیا میں بڑے مانے جاتے تھے حتی کہ زمانہ جاہلیت میں یہ لوگ بہت ہی مشرکانہ رسوم سے محفوظ تھے جیسے زمانہ حج میں گھروں میں پیچھے سے آنا۔
۷؎ غالبًا کفار یمن کی جر--أت ہی نہ ہوئی کہ ان کا مقابلہ کرتے ان حضرات نے اس ذوالخلصہ میں پہلے تو آگ لگائی پھر اسے ڈھاکر پھینک دیا اور ایسا فنا کیا کہ اب تک وہ نہ بنایا جاسکا۔سلطان محمود غزنوی نے سومنات مندر تباہ کیا پھر انڈیا نے وہ مندر بنایا ۱۹۶۵ء کی جنگ میں غازیان پاکستان نے اسے پھر تباہ کردیا خدا اسے کبھی آباد نہ ہونے دے ہمارے پاکستان کو دائم و قائم رکھے۔
|
5898 -[31] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَقْبَلُهُ» . فَأَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذَا؟ فَقَالُوا: دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْض. |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کاتب وحی تھا وہ اسلام سے پھر گیا ۱؎ اور مشرکین سے جا ملا۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے زمین قبول نہ کرے گی ۳؎ مجھے ابوطلحہ نے خبر دی کہ وہ اس زمین میں گئے جہاں وہ مرا تھا اسے باہر پھینکا ہوا پایا پوچھا اس میت کا کیا حال ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس کو بارہا دفن کیا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۴؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع