30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی مجھے دنیاوی کوئی کام نہیں تھا،حضور کی خدمت میں رہنا میرا مشغلہ تھا چہرہ انور صلی اللہ علیہ وسلم تکتے رہنا میرا کاروبار تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آستانہ میرا بازار تھا یہ ہی میرا باغ و بہار ہے۔
۶؎ یعنی ایک دن دریاء عطا موجزن تھا لوگوں کو قوت حافظہ تقسیم فرمارہے تھے فرمایا کوئی ہے جو اپنا کپڑا بچھائے ہم ایک دعا پڑھتے ہیں جب وہ دعا ختم ہوجاوے تو وہ یہ ہی کپڑا اپنے سینے سے لگالے ان شاءاﷲ اس کا حافظہ بہت ہی قوی ہوجاوے گا۔خیال رہے کہ تھوڑی چیز ہاتھ پھیلا کر لی جاتی ہے مگر بڑے سخی کی بڑی عطا چادر پھیلا کر سمیٹی جاتی ہے یہاں چادر پھیلانا کا حکم دیا گیا معلوم ہوتا ہے عطا بڑی ہے۔خیال رہے کہ قوتِ حافظہ انسان کی ایک صفت ہے جو قدرتی طور پر لوگوں کو عطا ہوتی ہے کوئی قوی حافظے والا ہوتا ہے کوئی ضعیف حافظہ والا اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صفات انسانیہ بھی عطا فرماتے ہیں بحکم پروردگار ؎
مالک ہیں خزانہ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے
اس سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ کوئی دنیاوی بات بھولیں تو بھولیں میرا کلام بھی نہ بھولیں گے۔
۲؎ نمرہ نون کے فتحہ اور میم کے کسرہ سے وہ اونی کمبل جس میں سیاہ و سفید دھاریاں ہوں اس وقت سر سے پاؤ ں تک آپ صرف یہ ہی کمبل اوڑھے تھے اور کوئی کپڑا آپ کے پاس نہیں تھا اکیلے تھے یہ ہی اتار کر بچھادیا ضرورۃً برہنہ ہونا جائز ہے۔
۳؎ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عضو ہر ادا اﷲ کے خزانوں کا دروازہ ہے کسی کو دم کرکے نعمتیں بخش دیں کسی کو نظر سے کسی کو ہاتھ سے کسی کو زبان شریف سے یوں ہی ہر جگہ حضور کا دروازہ عطا ہے جہاں رہ کر بھکاری اپنا ہاتھ پھیلا دے وہاں ہی عطا ہوجاتی ہے۔سورج کا نور کسی خاص جگہ میں نہیں جہاں بھی موجود ہو حجاب سے نکل آؤ نور پا جاؤ گے اعلیٰ حضرت نے فرمایا ؎
منگتے کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی دوری قبول و عرض میں صرف ہاتھ بھر کی ہے
مولانا حسن رضا خان صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری وہ ہی در ہے داتا کی دولت سرا کا
|
5897 -[30] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا». قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسِي بَعْدُ فَانْطَلَقَ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أحمس فحرقها بالنَّار وَكسرهَا. |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ کو ذی الخلصہ سے راحت نہ دو گے ۲؎ میں نے عرض کیا ہاں اور میں گھوڑے پر ٹھہر نہ سکتاتھا میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا تو حضور نے اپنا ہاتھ شریف میرے سینہ پر لگادیا حتی کہ میں نے آپ کے ہاتھ کا اثر اپنے سینے میں پایا ۳؎ اور فرمایا الٰہی اسے ثابت رکھ اسے ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنادے ۴؎ فرمایا اس کے بعد اپنے گھوڑے سے نہ گرا ۵؎ پھر وہ ڈیڑھ سو سواروں میں گئے جو قبیلہ احمس سے تھے۶؎ ذی الخلصہ کو آگ سے جلا دیا اور اسے ڈھا دیا ۷؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع