30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ جیسے بندوق کے مختلف اجزاء کے مختلف نام ہیں: بٹ،سمال بٹ،کراگری ایسے ہی تیر کے اجزاء کے بہت نام ہے تیر کا اگلا نوک والا دھار دار لوہا نصل کہا جاتا ہے،اس کے نیچے جو دو پر ہوتے ہیں انہیں نصاف کہتے ہیں اور تیر کی لکڑی قدح یا نفی کہلاتی ہے نصال کے نیچے کا حصہ خذذ کہا جاتا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جیسے تیر اپنے تمام اجزا کے ساتھ اس جانور کے سارے اجزاء میں سے ہو کر نکل جاتا ہے مگر خود اس کے خون وغیرہ سے رنگین نہیں ہوتا ایسے ہی وہ لوگ اسلام میں آکر اسلام سے نکل جائیں گے۔اس طرح کہ ان میں اسلام کا کوئی اثر نہ ہوگا۔جیسا آج دیکھا جارہا ہے ان میں حافظ قاری،مولوی بہت مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمن ہیں دین سے دور کا تعلق بھی نہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ان خوارج کے دل گویا تیر کی نصل نوک ہے ان کے سینے گویا تیر کے پر ہیں،ان کے بدن گویا تیر کی لکڑی ہے،ان کے ہاتھ پاؤ ں وغیرہ اعضاء گویا تیر کاخذذ ہیں کہ وہ لوگ عبادات اور علوم میں بڑی مشقتیں کریں گے مگر انہیں فائدہ کچھ نہ پہنچے گا۔(مرقات)خوارج کی تکفیر میں اختلاف ہے اس حدیث سے ان کا کفر ثابت ہوتا ہے۔(اشعہ)
۱۰؎ یعنی جب یہ فرقہ نکلے گا اس وقت ان کا سردار اس شکل کا ہوگا اس کا ایک ہاتھ ہوگا دوسرا ہاتھ نہ ہوگا بلکہ اس کے کندھے پر عورت کے پستان کی طرح گوشت ہوگا اس لیے اس کا نام ذو الثدیہ ہوگا۔
۱۱؎ خیال رہے کہ خوارج اگرچہ امیر معاویہ کو بھی برا کہتے ہیں مگر حضرت علی مرتضٰی اور اہل بیت اطہار کی بڑے سخت دشمن ہیں۔ حضرت علی سے ہی انہوں نے جنگ کی اس فرمان عالی میں اسی طرف اشارہ ہے اس میں یہ بھی بتادیا کہ امیر معاویہ اور ان کی جماعت مؤمنین ہیں مگر ان جنگوں میں وہ حق پر نہیں حق پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت ہوگی اس لیے علی خیر فرقۃ ارشاد ہوا یہ ہے ہمارے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب۔
۱۲؎ جب حضرت معاویہ نے صلح کرنے کے لیے حکم یعنی پنچ منظور کرلیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو اپنا حکم مقرر کیا اور امیر معاویہ نے حضرت عمرو ابن عاص کو تو ان لوگوں نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ دونوں مشر ک ہوگئے کیونکہ انہوں نے اﷲ کے سوا کوئی حکم مان لیا وہ اس آیت کی وجہ سے انکاری ہوگئے"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"ان کی تعداد دس ہزار تھی حضرت عبداﷲ ابن عباس کی فہمائش پر پانچ ہزار ان میں توبہ کرگئے حضرت ابن عباس نے یہ آیت پیش فرمائی "فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا"باقی پانچ ہزار ذوالفقار حیدری سے فی النار ہوئے ان کے چند آدمی بچے جن کی ذریت آج وہابیوں کی شکل میں ہمارے لیے وبال بنی ہے،یہ لوگ بھی ہر بات پر شرک کا فتویٰ جڑتے ہیں یہ شرک کا فتویٰ خوارج سے چلا ہے اب وہابیوں نے کتابیں شائع کی ہیں جن میں یزید ابن معاویہ کو برحق اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کو باغی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے دیکھو ان کی کتب خلافت معاویہ ویزید اور خلافت رشید ابن رشید حضرت امیر المومنین یزید صلی اﷲ علی یزید۔(نعوذ باﷲ)
۱۳؎ یعنی مجھے یہ فخر ہے کہ اس جہاد میں جناب امیر المؤمنین علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا اس جماعت مرتضوی کے بڑے فضائل ہیں۔
۱۴؎ یعنی جناب علی رضی اللہ عنہ اس جہاد سے فارغ ہوئے اور خارجیوں کی لاشیں بکھری دیکھیں تو فرمایا کہ ان کے سردار کی لاش تلاش کرو۔بعض روایات میں ہے کہ بار بار تلاش کرنے پر بھی اس کی لاش نہ ملی تو فرمایا قسم خدا کی اس کی لاش انہیں لاشوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع