30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِنۡ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی"دیکھو فرعونی جادو گروں کے جادو کا اثر موسیٰ علیہ السلام کے خیال پر یہ ہوا کہ ان کی لاٹھیاں رسیاں حرکت نہیں کرتی تھیں مگر آپ کو حرکت کرتی محسوس ہوتی تھیں جیسے زہر،تلوار بچھو کا ڈنگ جسم نبی پر اثر کرسکتے ہیں ایسے ہی جادو بھی ان پر اثر کرسکتا ہے۔یہ اثر شان نبوت کے خلاف نہیں دیکھو حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کو تلوار سے قتل کیا گیا ہمارے حضور کو خیبر میں زہر دیا گیا تو آپ پر اثر ہوا ہاں جب جادو کا معجزہ سے مقابلہ ہوگا تو جادو ناکام ہوگا۔یوں ہی ان حضرات کا دل زبان اس کے اثر سے محفوظ رہے گا کہ اس کا تعلق تبلیغ سے ہے اس جادو کا یہ واقعہ ۶ ہجری بعدصلح حدیبیہ کے ہوا جادو کا زور چالیس دن رہا ازالہ چھ ماہ کے بعد ہوا۔(اشعہ)
۳؎ یعنی حضور انور نے اس جادو کے دفع کے لیے بہت دعا فرمائی۔یہ تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی خوب خوب دعا کی۔
۴؎ یعنی میں نے رب سے دعا کی تھی کہ مجھے بیماری کیا ہے کس وجہ سے ہے اگر جادو ہے تو کس چیز میں کیا گیا ہےاور سامان جادو کہاں ہے،رب نے مجھے بتادیا اور دفعیہ کا طریقہ بھی۔
۵؎ یعنی دو فرشتے دو مردوں کی شکل میں میرے پاس آئے جب میں سورہا تھا ایک میرے سرہانے دوسرا پائنتی بیٹھ گیا اور انہوں نے آپس میں سوال جواب کیے میں سن رہا تھا وہ سب کچھ بتا گئے۔
۶؎ خیال رہے کہ کفار جو آپ کے متعلق کہتے تھے مسحور اس کے معنی تھے مجنون یعنی جو جادو کے زور سے بے عقل کردیا گیا یہاں مطلوب کے معنی ہیں کہ جن پر جادو کیاگیا لہذا ان کے مسحو رکہنے میں اور ان فرشتوں کے مطلوب کہنے میں بڑافرق ہے،واقعی حضور انور پر جادو کیا گیا تھا مگر اس سے حضور کی عقل و ہوش و حواس پر مطلقًا اثر نہیں ہوا صرف خیال پر اثر ہوا۔
۷؎ جادو کیا تھا لبید کی لڑکیوں نے مگر ان کی مدد لبید نے کی تھی اور کہا بھی اس نے تھا اس لیے لبید کا نام لیا گیا۔خیال رہے کہ لفظ طب کے بہت معنی ہیں ان میں سے ایک معنی جادو ہے یہاں اسی معنی میں ہے۔
۸؎ مشط کنگھی کے دندے کو کہتے ہیں اور مشاطہ سر یا داڑھی کے وہ بال جو کنگھی کرنے میں دندوں میں الجھ کر باہر آجاتے ہیں،طلعہ کھجور کا نر درخت جب وہ غلاف میں ہو جس میں کھجور کے پھول محفوظ ہوتے ہیں اکثر جادو کنگھی سے نکلے ہوئے بالوں پر ہوتا ہے اس لیے بعض لوگ ان بالوں کی حفاظت کرتے ہیں اولًا ان پر کچھ تھوتکار دیتے ہیں پھر وہ بال کسی محفوظ جگہ میں ڈالتے ہیں۔
۹؎ اس کنویں کے تین نام ہیں ذرواں،ارواں اور ذی ارواں،مختلف احادیث میں یہ مختلف نام آئے ہیں یہ کنواں مدینہ منورہ سے باہر ابوزریق کے باغ میں تھا اب موجود نہیں تب ہی بند کردیا گیا تھا دیکھو مرقات وغیرہ۔
۱۰؎ معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں وہ کنواں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا بھی گیا تھا اور دکھایا بھی گیا تھا اس لیے اریتھا فرمایا۔
۱۱؎ یعنی اس کنویں کا پانی نکالا نہیں جاتا تھا اس لیے پانی کا رنگ بدل گیا تھا اور اس کنویں پر چو طرفہ تھور کے درخت تھے جس کی شاخیں سانپ کے پھن کی طرح ہوتی ہیں ان پر باریک اور لمبے کانٹے ہوتے ہیں۔شیاطین سے مراد پھن والے سانپ ہیں۔
۱۲؎ اس طرح نکلوایا کہ آپ سرکار کنویں کے کنارہ پر کھڑے رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و عمار کو کنویں میں اتارا انہوں نے جادو کا سامان نکالا موم کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پتلا تھا جس میں گیارہ سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں بالوں میں گیارہ گرہیں تھیں اس جگہ اس وقت جبریل امین سورۂ فلق اور سورۂ ناس لائے ان دونوں میں گیارہ آیتیں ہیں حضور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ایک آیت پڑھتے تو پتلا میں سے ایک سوئی نکل جاتی تھی اور بالوں کی ایک گرہ کھل جاتی تھی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بوجھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع