30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ یعنی تا قیامت یہ طریقہ رہے گا کہ بعض لوگ دینی خدمات کریں گے جن سے اسلام کو قوت پہنچے مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں گے مگر وہ خود اس کے فائدوں سے محروم رہے جیسا کوئی ریا کار مسجد خانقاہ مدرسہ دینی بنا جاوے لوگ فائدے اٹھائیں یہ خود اپنی خراب نیت کی وجہ سے ثواب نہ پائے یا جیسے کوئی شخص صدقات جاریہ قائم کرے مگر اس کا خاتمہ خراب ہوجاوے لوگ اس کے صدقات کی وجہ سے جنتی بن جاویں وہ خود دوزخی ہو۔الٰہی تیری پناہ !لہذا کوئی اپنے اعمال پر نازاں نہ ہو رب کا فضل مانگتا رہے ؎
احمد یار احمق ہویا علم و دھیرا پڑھ کے پڑھے لکھے پر مان نہ کرنا پھٹ جاندا دودھ کڑھکے
شکلاں والیاں ناز دکھاون پکڑ نکالیاں جاون اوگنہاریاں عجز کماون قرب حضوری پاون
|
5893 -[26] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ حَتَّى إِذا كَانَ ذَات يَوْم وَهُوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا استفتيته جَاءَنِي رجلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُريتها وَكَأن ماءَها نُقاعةُ الْحِنَّاء ولكأن نخلها رُءُوس الشَّيَاطِين فاستخرجه |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا ۱؎ حتی کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ کیا نہ ہوتا تھا۲؎ حتی کہ جب ایک دن حضور سرکار میرے پاس تھے تو اﷲ سے دعا کی پھر دعا کی ۳؎ پھر فرمایا کہ اے عائشہ کیا تمہیں خبر ہے کہ اﷲ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی ۴؎ میرے پاس دو شخص آئے ان میں سے ایک تو میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤ ں کے پاس ۵؎ پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان صاحب کو کیا بیماری ہے اس نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے ۶؎ وہ بولا کس نے جادو کیا ہے کہا لبیدابن اعصم یہودی ۷؎ نے بولا وہ جادو کس چیز میں کیا گیا کہا کنگھی اور بالوں میں اور نر کھجور کے غلاف شگوفہ میں ۸؎ میں بولا تو وہ سامان کہاں ہے کہا ذروان کنویں میں ۹؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ اس کنویں تک گئے فرمایا یہ ہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ۱۰؎ اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح ہے اور گویا اس کے درخت سانپوں کے سر ہیں۱۱؎ پھر حضور نے اسے نکلوایا ۱۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ لبید ابن عاصم یہودی اور اس کی لڑکیوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بالوں اور استعمالی کنگھی کے دندانوں میں حضور پر جادو کیا اور ان بالوں میں گیارہ گرہیں لگائیں تب حضور پر وہ اثر ہوا جو آگے مذکور ہے۔
۲؎ یعنی ان لوگوں نے جادو تو بہت ہی سخت کیا تھا مگر اس کا اثر حضور انور کی عقل،حافظہ،دل جگر وغیرہ پر مطلقًا نہ ہوا صرف خیال پر اثر ہوا وہ بھی دنیاوی کاموں میں کہ کھانا نہیں کھایا ہے اور خیال رہا کہ کھالیا دین پر کوئی اثر نہیں ہوا،نبی کے خیال پر جادو کا اثر ہو جانا بالکل درست ہے قرآن کریم نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا"فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَ عِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع