30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5890 -[23] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِيهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم |
اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے معنی ہیں ان دونوں کی روایت میں ہے کہ براء کہتے ہیں خدا کی قسم جب جنگ سخت ہوتی تھی تو ہم حضور کی پناہ لیتے تھے ۱؎ اور ہم میں بہادر وہ تھا جو ان کے یعنی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا ۲؎ |
۱؎ یعنی حضور انور جہادوں میں سب مجاہدین کی جائے پناہ ہوتے تھے کہ ہر طرف سے آپ ہی کے پاس آیا جاتا تھا بلکہ قیامت تک ہر مسلمان کی پناہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں ہر مصیبت ہر آفت میں حضور کی پناہ لو ابلیس کے دھوکوں سے حضور کی پناہ میں آؤ،فرماتے ہیں انا فئۃ المسلمین میں مسلمانوں کی پناہ ہوں۔
۲؎ عمومًا جہادوں میں سردار محفوظ مقامات میں کھڑے ہوتے ہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جہاد میں مشکل ترین جگہ پر کھڑے ہوتے تھے جہاں حضور ہوتے تھے وہاں ہی جنگ کا زور ہوتا تھا اس لیے آپ کے ساتھ آپ کے پاس کھڑے ہونا ہر شخص کا کام نہ تھا بہت بہادر ہی وہ جگہ سنبھالتا تھا۔
|
5891 -[24] وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَوَلَّى صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشُوا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمْ الله عز وَجل وَقَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غنائمهم بَين الْمُسلمين رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرمایا ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ حنین کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی پیٹھیں پھر گئیں پھر جب کفار نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا ۲؎ تو آپ خچر سے اترے پھر زمین سے مٹی کی مٹھی لی پھر اسے کفار کے چہروں کے سامنے کیا پھر فرمایا بگڑ گئے یہ چہرے ۳؎ تو ان میں سے اﷲ نے کوئی انسان نہ پیدا فرمایا مگر اﷲ نے اس کی آنکھیں اس مٹھی کی مٹی سے بھردیں پھر وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے ۴؎ اﷲ نے انہیں شکست دے دی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں ۵؎ (مسلم) |
۱؎ اصحاب سے مراد بعض صحابہ ہیں نہ کہ سارے۔(مرقات)پیٹھ پھیرنے کی وجہ ابھی پچھلی احادیث میں ذکر کی گئی ان حضرات صحابہ کا ناتجربہ کار کم ہتھیار ہونا اور اپنی زیادتی پر اعتماد کرنا مقابل کفار کا بہت نشانہ باز تیر انداز ہونا کہ ان کا کوئی تیر بغیر زخمی کیے نہ گرتا تھا۔
۲؎ غشوا بنا ہے غشیان سےبمعنی چھا جانا گھیر لینا،سینکڑوں کفار نے ایک ذات کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا تھا مگر حضور انور کے قلب پاک پر گھبراہٹ مطلقًا نہیں آئی۔
۳؎ اس موقعہ پر حضور انور نے تین کام کیے تلوار سونت کر خچر سے اترنا، وہ رجز پڑھنا کہ انا النبی لا کذب،انا ابن عبد المطلب۔ تیسرا یہ عمل کہ مٹھی بھر کر مٹی کافروں پر پھینکنا۔ خیال رہے کہ بعض موقعوں پر حضور انور کے منہ شریف سے بے تکلف شعر صادر ہوئے ہیں یہ شعر بھی انہیں میں سے ہے لہذا یہ واقعہ اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"وہاں مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم شعر نہیں یا ہم نے محبوب کو شعر گانے کا ملکہ نہیں دیا۔شاھت کے معنی ہیں بگڑ گئے،پھرگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع