30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ یعنی جیسے گائے کے بچھڑے ہوئے بچے اپنی ماں کی آواز سن کر شوق و محبت میں دوڑے آتے ہیں ایسے ہی وہ حضرات میری آواز سن کر حضور انور کی طرف بڑے شوق سے آئے اور دوڑے ہوئے آئے۔
۱۰؎ یعنی ان تمام گروہوں کو علیحدہ علیحدہ آوازیں دی گئیں اور وہ سب حضرات آتے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اردگرد جمع ہوتے گئے۔
۱۱؎ معلوم ہوا کہ بندوں سے مدد لینا انہیں مدد کے لیے بلانا سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہے بلکہ سنت انبیاء کرام ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مدد کے لیے لوگوں کو پکارا"مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ"۔تطاول کے معنی ہیں انتظار میں کسی کو گردن اٹھا کر دیکھنا کہ وہ ہماری مدد کرے۔
۱۲؎ حمی کے معنی ہیں گرم ہونا۔وطیس بمعنی تنور اس سے مراد جنگ و جہاد ہے(اشعہ)یعنی اب دیر نہ کرو جلد جہاد کرو یہ وقت رحمتِ الٰہی کے نزول کا ہے۔
۱۳؎ اس فرمان عالی میں غیبی خبر ہے چونکہ اس خبر کا وقوع یقینی تھا اس لیے مستقبل کو ماضی سے تعبیر فرمایا یعنی یقین کرلو کہ وہ بھاگ ہی گئے۔
۱۴؎ دھار کند ہونے سے مراد ہے ان کی تیزی ختم ہوجانا جوش ٹھنڈا پڑ جانا اور معاملہ ذلیل ہونے سے مراد ہے ان کفار کا ذلیل و خوار ہوجانا شکست کھا جانا۔اس واقعہ میں حضور انور کے دومعجزے ظاہر ہوئے: ایک فعلی دوسرا قولی۔فعلی معجزہ تو ایک مٹھی کنکروں کا تقسیم ہو کر سب کی آنکھوں میں پڑ جانا ہے اور قولی معجزہ ہے کہ یہ شکست کھا گئے پھر فورًا ہوا بھی ایسا ہی۔
|
5889 -[22] وَعَن أبي إِسْحَق قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلِيُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ كَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقَوْا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُهُ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ ثُمَّ صفهم. رَوَاهُ مُسلم. وللبخاري مَعْنَاهُ |
روایت ہے حضرت ابو اسحاق سے ۱؎ کہ کسی نے حضرت براء سے کہا کہ اے ابو عمارہ تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے ۲؎ تو فرمایا نہیں خدا کی قسم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیٹھ نہیں پھیری ۳؎ لیکن حضور کے نوجوان صحابہ اس طرح گئے تھے کہ ان کے پاس بہت سے ہتھیار نہ تھے ۴؎ تو وہ تیر انداز قوم سے ملے جس کا کوئی تیر زمین پر گرتا نہ تھا۵؎ تو انہوں نے مسلمانوں کو زخمی کردیا ان کے تیر خطا نہیں کرتے تھے تب وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سفید خچر پر تھے ۶؎ اور ابوسفیان ابن حارث آپ کے خچر کو کھینچ رہے تھے ۷؎ تب حضور اترے فتح کی دعا کی اور فرمایا میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں ۸؎ پھرمسلمانوں کی صفیں بنائیں ۹؎(مسلم) |
۱؎ آپ کا نام عمرو ابن عبداﷲ ہے،سہمی مشہور تابعی ہیں،اڑتیس صحابہ سے ملاقات ہے آپ سے بہت احادیث مروی ہیں(اشعہ و مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع