دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5888 -[21]

وَعَن عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَن لَا تسرع وَأَبُو سُفْيَان آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدبرا. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حاضر ہوا ۱؎ تو جب مسلمان و کفار بھڑ پڑے تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کفار کی طرف اپنے خچر کو ایڑھ ماررہے تھے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر کی لگام پکڑے تھا ۳؎  اسے روک رہا تھا کہ کہیں تیز نہ چل پڑے۴؎  اور ابوسفیان ابن حارث ۵؎  رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عباس بیعت الرضوان والوں کو پکارو ۷؎ تو جناب عباس نے کہا اور وہ تھے بہت بلند آواز ۸؎ آپ نے اپنی بلند آواز سے پکارا کہ بیعت رضوان والے کہاں ہیں فرمایا اﷲ کی قسم گویا جب انہوں نے میری آواز سنی تو میں نے انہیں ایسے پھیرلیا جیسے گائے اپنے بچوں پر موڑتی ہے ۹؎ وہ بولے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں حضور نے فرمایا کفار سے جنگ کرو انصار کے متعلق پکار یہ تھی کہ کہتے تھے اے گروہ انصار اے گروہ انصار راوی نے فرمایا کہ پھر بنی حارث ابن خزرج پر بلاوا محدود ہوگیا۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نظر دوڑائی حالانکہ آپ اپنے خچر پر تھے گویا آپ اس پر جہاد کفار کے منتظر تھے ۱۱؎ تو فرمایا کہ یہ لڑائی گرم ہونے کا وقت ہے۱۲؎ پھر چند کنکریاں لیں وہ کفار کے منہ کی طرف پھینکیں پھر فرمایا قسم رب محمد کی یہ بھاگ نکلے۱۳؎ تو خدا کی قسم کچھ نہ ہوا سوا اس کے کہ حضور نے ان پر کنکریاں پھینکیں میں دیکھتا رہا ان کی دھار کنداور ان کا معاملہ ذلت والا ۱۴؎(مسلم)

۱؎ حنین ایک جنگل کا نام ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان واقع ہے اس گنہگار نے وہاں کی زیارت کی ہے۔غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد ہوا، بنی ہوازن سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تھا پہلے مسلمانوں کے قدم اکھڑگئے تھے پھر اﷲ نے مسلمانوں کو فتح کامل عطا فرمائی یہ بنی ہوازن جناب حلیمہ دائی کی ہم قوم تھی اس علاقہ میں جناب حلیمہ کا گھر تھا۔حضور انور نے وہاں ہی پرورش پائی تھی غزوہ حنین بھی ۸ ہجری میں ہوا۔(مرقات)

۲؎ اس غزوہ میں مسلمان بارہ ہزار تھے اور کفار قریبًا چار ہزار،مسلمانوں کو خیال ہوا کہ آج ہم زیادہ ہیں فتح پائیں گے رب تعالٰی کی طرف سے عتاب ہوا فرماتاہے:"اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنۡکُمْ شَیْـًٔا"ہوا یہ کہ حضرات صحابہ حضور انور سے آگے کفار سے لڑرہے تھے،مسلمان قبیلہ ہوازن کی تیر اندازی کی تاب نہ لاسکے اس لیے ان کے قدم اکھڑ گئے تتر بتر ہو کر بھاگ پڑے،یہاں المسلمون سے مراد اکثر مسلمان ہیں سارے نہیں۔

۳؎ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شجاعت و بہادری کہ ایسی حالت میں خاطر اقدس پر قطعًا گھبراہٹ نہیں تنہا ہیں مگر کفار کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔

 ۴؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنا خچر کفار کی طرف دوڑانا چاہتے تھے اور جناب عباس اسے روکتے تھے آپ چاہتے تھے مسلمان سب جمع ہو جاویں تب حضور کا خچر کفار میں پہنچے۔

 ۵؎ آپ کا نام مغیرہ ہے کنیت ابو سفیان آپ ابن حارث ابن عبدالمطلب ہیں حضور کے چچا زاد بھائی بھی ہیں اور رضاعی بھائی بھی کیونکہ حلیمہ بنت ابو ذویب سعدیہ نے آپ کو بھی دودھ پلایا زمانہ کفر میں حضور انور کے سخت خلاف تھے حضور کے خلاف قصیدے لکھا کرتے تھے،فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور زندگی بھر حضور انور کے سامنے کبھی سر نہ اٹھایا شرم وحیاء کی وجہ سے ۰ ۲ بیس ہجری میں وفات پائی،حضرت عمر نے جنازہ پڑھایا دارعقیل میں دفن ہوئے۔(اکمال)

۶؎ اس و قت حضور انور کے ساتھ صرف یہ دو حضرات ہی تھے باقی صحابہ کرام جن کے قدم نہ اکھڑے تھے۔وہ اپنے اپنے مقام معین پر کھڑے تھے۔

 ۷؎ سمرہ والے وہ حضرات ہیں جنہوں نے بیعۃ الرضوان میں شرکت کی تھی یعنی بیعت رضوان والے صحابہ چونکہ یہ بیعت ایک خار دار درخت کے نیچے ہوئی تھی اس لیے انہیں اصحاب سمرہ کہا جاتا ہے انہیں پکارنا مدد کے لیے تھا اور یہ بتانے کے لیے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہاں ہیں ادھر آؤ۔

 ۸؎ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عباس کی آواز چند میل تک پہنچتی تھی۔صیتا مبالغہ صائت کا صائت بمعنی آواز والا صیتًا بہت بڑی آواز و الا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن