30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے یہ ہے حضور انور کا علم غیب بلکہ حاضر و ناظر ہونا آج دوربین کے ذریعہ انسان دور کی چیز دیکھ لیتا ہے۔تو نبوت کی دوربین کا کیا کہنا اس زمانہ میں جھنڈا لشکر کے سردار کے ہاتھ میں ہوتا تھا حضور انور کا یہ فرمان کہ جھنڈا فلاں نے لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امیر لشکر بن گئے۔
۳؎ حضور انور نے جناب خالد کو امارت کے لیے منتخب و نامزد نہیں کیا تھا حضرت عبداﷲ ابن رواحہ کی شہادت پر جناب خالد نے خود جھنڈا لے لیا اور لشکر کے امیر بن گئے۔سیف اﷲ سے مراد ہے بڑے بہادر،اﷲ تعالٰی کی طرف نسبت عظمت کے لیے ہے اس دن حضرت خالد نے کفار اس قدر قتل کیے کہ آپ کے ہاتھ میں سات تلواریں ٹوٹیں اس زمانہ میں تلوار توڑ دینا بڑی بہادری کی علامت تھی۔غالبًا اس دن سے حضرت خالد کا لقب سیف اﷲ ہوا،حضرت خالد نے شہادت کی بہت تمنا کی مگر میسر نہ ہوئی کیونکہ اﷲ کی تلوار کون توڑتا۔
۴؎ غزوہ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ رومیوں پر فتح پائی آج مشرق وسطیٰ یعنی فلسطین وغیرہ میں مسلمان پانچ کروڑ سے زیادہ ہیں مگر بیس لاکھ اسرائیلی ان کے لیے آفت بنے ہوئے ہیں قوتِ ایمانی بڑی طاقت ہے۔شعر
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
|
5888 -[21] وَعَن عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَن لَا تسرع وَأَبُو سُفْيَان آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدبرا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حاضر ہوا ۱؎ تو جب مسلمان و کفار بھڑ پڑے تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کفار کی طرف اپنے خچر کو ایڑھ ماررہے تھے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر کی لگام پکڑے تھا ۳؎ اسے روک رہا تھا کہ کہیں تیز نہ چل پڑے۴؎ اور ابوسفیان ابن حارث ۵؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عباس بیعت الرضوان والوں کو پکارو ۷؎ تو جناب عباس نے کہا اور وہ تھے بہت بلند آواز ۸؎ آپ نے اپنی بلند آواز سے پکارا کہ بیعت رضوان والے کہاں ہیں فرمایا اﷲ کی قسم گویا جب انہوں نے میری آواز سنی تو میں نے انہیں ایسے پھیرلیا جیسے گائے اپنے بچوں پر موڑتی ہے ۹؎ وہ بولے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں حضور نے فرمایا کفار سے جنگ کرو انصار کے متعلق پکار یہ تھی کہ کہتے تھے اے گروہ انصار اے گروہ انصار راوی نے فرمایا کہ پھر بنی حارث ابن خزرج پر بلاوا محدود ہوگیا۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نظر دوڑائی حالانکہ آپ اپنے خچر پر تھے گویا آپ اس پر جہاد کفار کے منتظر تھے ۱۱؎ تو فرمایا کہ یہ لڑائی گرم ہونے کا وقت ہے۱۲؎ پھر چند کنکریاں لیں وہ کفار کے منہ کی طرف پھینکیں پھر فرمایا قسم رب محمد کی یہ بھاگ نکلے۱۳؎ تو خدا کی قسم کچھ نہ ہوا سوا اس کے کہ حضور نے ان پر کنکریاں پھینکیں میں دیکھتا رہا ان کی دھار کنداور ان کا معاملہ ذلت والا ۱۴؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع