دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎ یعنی حضور انور نے دو صاحبوں کو یہ حکم دیا ایک تو حضرت علی تھے، دوسرے فلاں صاحب تھے ان فلاں کا نام مجھے یاد نہ رہا ابو رجاء نے بتایا تھا عوف بھول گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنے دکھ درد حضور کو سنانا اور ان کے دفعیہ کے لیے حضور سے عرض کرنا نہ تو توکل کے خلاف ہے نہ شرک ہے بالکل جائز ہے دیکھو پیاس کی شکایت حضور سے کی۔اب بھی اپنے دکھ درد حضور سے کہنا بالکل جائز ہے،ہم بھیگ مانگنے ہی کو پیدا ہوئے،حضور بھیک دینے کو آئے"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔

۳؎ یعنی ایک حبشی عورت اونٹ پر سوار تھی اس کی دونوں جانب دو چھوٹے یا بڑے مشکیزے پانی کے بھرے ہوئے لٹک رہے تھے اور یہ عورت چلی جارہی تھی۔

۴؎ ھا ضمیر یا تو اس عورت کی طرف ہے یا اس کے مشکیزہ کی طرف یعنی اس عورت کو یا مشکیزے کو اونٹ سے اتارا یہ عورت بڑی مشکل سے حضور انور کی خدمت میں لائی گئی تھی وہ آنے پر تیار نہ تھی کیونکہ اس کے سفر میں حرج ہوتا تھا،جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔ یہاں دو باتیں دھیان میں رکھی جاویں: ایک یہ کہ ان دونوں صحابہ نے اس عورت کو حاضر بارگاہ کردیا اس کا پانی نہیں چھین لیا کیونکہ وہ عورت اس پانی کی مالکہ تھی اور مالک کی مرضی کے بغیر اس کی چیز استعمال نہیں کرسکتے،ہاں خود مالک کو حضور کی بارگاہ میں حاضر کردیا، دوسرے یہ کہ کسی کو جبرًا روکنا اسے اس کی سواری سے جبرًا اتارنا،اس کا پانی بغیر اس کی مرضی کے لے لینا قانون کے لحاظ سے ممنوع ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم انسانوں کے مالک ہیں اﷲ تعالٰی نے انہیں ملک تام بخشی ہے مالک اپنی لونڈی غلام میں ہر طرح تصرف کرسکتا ہے اس کی جان میں بھی اس کے مال میں بھی،خصوصًا جب کہ اس تصرف میں اس شخص کا نقصان بھی نہ ہو۔

 ۵؎ یعنی مشکیزے کے منہ سے پانی ایک برتن لگن وغیرہ میں ڈالا اور لوگوں نے اسی لگن سے پانی لیا کہ لوگ اس برتن سے پانی لیتے تھے۔اسقو کے معنی یہ ہیں کہ خود بھی پی لو اپنے جانوروں وغیرہا کو بھی پلالو۔

 ۶؎ یعنی فی الحال سب نے پانی پی بھی لیا اور آئندہ پینے کے لیے بھر بھی لیا،وضو و غسل بھی کرلیے حضور انور نے اس مشکیزہ کا کنکشن حوض کوثر سے کردیا تھا غالبًا یہ پانی وہاں سے آرہا تھا۔

۷؎ یعنی پانی کی برکت کا یہ حال تھا کہ ہم کو محسوس ہوتا تھا کہ جب پانی لینا شروع کیا گیا تھا اس وقت سے اب یہ مشکیزہ زیادہ پر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کی چیز ہمارے استعمال سے کم نہ ہو تو اس کی بغیر اجازت وہ چیز لے سکتے ہیں لہذا دوسرے کے چشمہ والے کنوئیں سے پانی بھر سکتے ہیں کسی کی روشنی سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں،بچوں سے ایصال ثواب کراسکتے ہیں۔

5885 -[18]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لفتة فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھےحتی کہ ہم ایک وسیع جنگل میں اترے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت(استنجاء)کے لیے گئے تو ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آڑ کریں ۲؎ حضور نے جنگل کے کناروں میں دو درخت دیکھے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲ کے حکم سے میری اطاعت کر ۳؎ وہ آپ کے ساتھ اس مہار والے اونٹ کی طرح چلے جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے۴؎ حتی کہ آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے ۵؎ تو اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲ کے حکم سے میری اطاعت کروہ بھی اسی طرح حضور کے ساتھ چلا کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے ۶؎ تو فرمایا اﷲ کے حکم سے مجھ پر مل جاؤ وہ دونوں مل گئے میں بیٹھ گیا اپنے دل میں کچھ سوچتا تھا۷؎میرا اور طرف دھیان گیا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو آتے ہوئے دیکھا اور درختوں کو دیکھا۸؎ کہ جدا ہوگئے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا ہوگیا تھا ۹؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن