30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5749 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وبَينا أَنا نائمٌ رأيتُني أُوتيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي» |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جامع باتوں کے ساتھ بھیجا گیا اور ہیبت سے میری مدد کی گئی جبکہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے کو دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں تو میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے الله تعالٰی نے زمین کے سارے خزانوں کی چابیاں عطا فرمائیں۔خیال رہے کہ تمام زمینی اور دریائی پیداواریں زمینی خزانے ہیں۔ان کی چابیاں آپ کو دیئے جانے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو ان سب کا مالک بنادیا اور مالک بھی اختیار والا کہ آپ لوگوں کو اپنے اختیار سے تقسیم فرمادیں ؎
کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے ہر کار بنایا تمہیں مختار بنایا
بے یار و مددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا
اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا"حضور بہ عطاء الٰہی الله کے سارے خزانوں کے مالک ہیں،حضرت ربیعہ ابن کعب نے حضور سے جنت مانگی جو منظور فرمالیا گیا۔
|
5750 -[12] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ: الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وإنَّ ربِّي قَالَ: يَا محمَّدُ إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وأنْ لَا أُسلطَ عَلَيْهِم عدُوّاً سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعضهم بَعْضًا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے ۱؎ اور میری امت کا ملک وہاں تک ہی پہنچے گا جہاں تک کہ میرے لیے سمیٹ دیا گیا ۲؎ اور مجھے دو خزانے دیئے گئے سرخ و سفید۳؎ اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا کہ انہیں عام قحط سے ہلاک نہ کرے۴؎ اور ان پر ان کی جماعت کے سوا کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو ان کی اصل اکھیڑ دے ۵؎ میرے رب نے فرمایا اے محمد صلی الله علیہ وسلم ہم جب کوئی فیصلہ فرما دیتے ہیں تو وہ رد نہیں ہوسکتا ۶؎ میں نے آپ کو آپ کی امت کے متعلق یہ وعدہ دے دیا کہ انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہ کروں گا اور ان پر ان کی جماعت کے علاوہ کوئی دشمن مسلط نہ کروں گا ۷؎ جو ان کی اصل اکھیڑ دے اگرچہ وہ دنیا کے ہر طرف سے جمع ہوجاویں حتی کہ وہ امتی خود ان کے بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعضے بعض کو قیدی کریں گے ۸؎(مسلم) |
۱؎ یعنی ساری زمین مجھے مختصر کرکے دکھادی گئی میرے سامنے رکھ دی گئی۔یہاں مرقاۃ میں ہے کہ ساری زمین حضور انور کے سامنے کردی گئی جیسے آئینہ دار کے ہاتھ میں آئینہ۔(مرقات)حضور انور کو مشرق و مغرب کی سلطنت عطا کی گئی۔(دیکھو اشعۃ اللمعات)اس سے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان،مشرق و مغرب حضور انور کی نظر میں بھی ہیں اور حضور انور کے تصرف میں بھی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع