30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس فرمان عالی میں تین غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ حضرت عمار شہید ہوں گے،دوسرے یہ کہ مظلوم ہوں گے،تیسرے یہ کہ ان کے قاتل باغی ہوں گے یعنی امام برحق پر بغاوت کرنے والے،یہ تینوں خبریں من و عن اسی طرح ظاہر ہوئیں۔ حضرت عمار جناب مولیٰ کائنات علی المرتضٰی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھے،جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے۔جب یہ حدیث شہادت عمار کے بعد حضرت امیر معاویہ کو پہنچی کہ عمرو ابن عاص نے کہا کہ معاویہ غضب ہوگیا حضرت عمار ہماری جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے اور حضور انور نے ان کے قاتلین کو فئۃ باغیہ فرمایا ہے ہم اس حدیث کے ماتحت باغی ہوئے تو امیر معاویہ نے کہا نحن امۃ باغیۃ لدم عثمان یعنی یہاں باغیہ بغاوت سے نہیں بلکہ بغیٌ بمعنی مطالبہ سے،ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ مانگنے والے ہیں،اس معنی سے واقعی ہم لوگ باغی ہیں۔ دوسرے یہ کہ عمار کو قتل کرنے والے دراصل علی ہیں جو انہیں جنگ میں لائے ہم تو عمار کا بڑا احترام کرتے تھے اور کرتے ہیں۔حضرت علی نے فرمایا کہ اگر حدیث کا مطلب یہ ہے تو جناب حمزہ کے قاتل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کہ وہ ہی آپ کو جنگ احد میں لے گئے تھے۔بہرحال حضرت علی خلیفہ برحق ہیں،امیرمعاویہ ان کی مخالفت کی بنا پر باغی ہیں،حضرت علی کی ڈگری امیر معاویہ کی معافی ہے۔(مرقات و اشعہ)اس کی نفیس تحقیق ہماری کتابہ امیر معاویہ پر ایک نظر میں دیکھو،صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار سب کا احترام لازم ہے۔
|
5879 -[12] وَعَن سليمانَ بن صُرَد قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ: «الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يغزونا نَحن نسير إِلَيْهِم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن صرد سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کہ احزاب آپ سے دور کیے گئے ۲؎ کہ ہم ان پر حملہ کریں گے وہ ہم پر حملہ نہ کریں گے ہم ان کی طرف جائیں گے ۳؎ (بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،کوفی ہیں،بڑے بزرگ تھے،واقعہ کربلا کے بعد آپ نے یزیدیوں سے بدلہ لینے کے لیے بہت بڑی جماعت جمع کی اس کوشش میں شہید ہوئے۔(اشعہ)
۲؎ احزاب غزوہ خندق کو کہتے ہیں،یہ غزوہ ۵ھ میں ہوا۔احزاب جمع ہے حزب کی بمعنی گروہ و جماعت،چونکہ اس غزوہ میں کفار کی بہت جماعتیں جمع ہوکر مدینہ طیبہ پر ٹوٹ پڑیں تھیں اس لیے اسے احزاب کہتے ہیں۔ان تمام کے سردار ابوسفیان تھے، ان کی تعداد دس ہزار تھی۔چنانچہ نجدی کفار ایک ہزار تھے جن کا سردار عیینہ ابن حصن تھا ہوازن کا سردار عامر ابن طفیل تھا،بنی کنانہ وغیرہ کے الگ الگ سردار تھے،مدینہ کے یہودی بنی قریظہ اور بنی نضیر ان سے مل گئے تھے ایک ماہ تک مدینہ منورہ کا محاصرہ رہا تھا،دو طرفہ سے تیر اندازیاں اور معمولی جھڑپیں ہوتی رہیں تھیں کھل کر جنگ نہیں ہوئی پھر اﷲ تعالٰی نے تیز آندھی بھیجی جس سے لشکر کفار تتربتر ہوکر بھاگ گیا۔(مرقات وغیرہ)
۳؎ اس میں غیبی خبر ہے کہ اب آئندہ مدینہ منورہ پر کفار حملہ نہ کرسکیں گے بلکہ اب ہم ہی ان پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا کہ غزوۂ طائف،غزوۂ خیبر،فتح مکہ،تبوک وغیرہ سب میں مسلمان ہی حملہ آور ہوئے۔
|
5880 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الخَنْدَق وضع السِّلاحَ واغتسل أَتاه جِبْرِيل وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم خندق سے لوٹے اور ہتھیار رکھ دیئے اور غسل فرمایا تو آپ کے پاس حضرت جبریل اپنا سر غبار سے جھاڑتے ہوئے آئے ۱؎ بولے آپ نے تو ہتھیار اتار دیئے خدا کی قسم میں نے نہیں اتارے ان کی طرف جائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کہا،جبریل نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لے گئے ۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع