30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ پورا واقعہ بخاری وغیرہ میں بہت تفصیل سے آیا ہے حضرت عبداﷲ ابن عتیک چاندنی رات ہی اپنی جماعت کو باہر چھوڑکر ایک حیلہ سے اکیلے اس کے بالاخانہ پر چڑھ گئے،وہاں بہت لوگ سورہے تھے پہچان نہ سکے کہ ابو رافع کون ہے اسے آہستہ سے آواز دی ابو رافع،وہ نیند کی غشی میں بول پڑا ہوں،اس ہوں کی آواز کی رہبری میں آپ اس کے بستر تک پہنچ گئے۔
۳؎ یہ واقعہ دوسری بار کا ہوا،پہلی بار آپ نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپی اور لوٹے پھر خیال آیا کہ شاید مرا نہیں پھر لوٹے اور بولے ابو رافع کیا ہوا تب وہ چیخا کہ مجھے کوئی مار گیا تب آپ نے وہ عمل کیا جو یہاں مذکور ہے۔
۴؎ ابو رافع کے محل کے بہت دروازے تھے آپ نے جاتے وقت وہ تمام دروازے اندر سے بند کرلیے تھے تاکہ وقت پر باہر سے اس کو مدد نہ پہنچ سکے اب واپسی میں وہ دروازے کھولتے گئے اترتے گئے،دروازوں کا سلسلہ دور تک تھا آخری سیڑھی پر پہنچ کر سمجھے کہ زمین آگئی لیکن ابھی ایک سیڑھی باقی تھی۔
۵؎ یعنی چونکہ میرا پاؤ ں غلط پڑا میں سمجھا کہ زمین پر پاؤ ں رکھ رہا ہوں میں بے ڈھب گرا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اس زمانہ میں اس کا کوئی علاج ہی نہ تھا۔
۶؎ یعنی گویا میری پنڈلی میں کبھی یہ بیماری نہ ہوئی تھی۔بعض علماء سے سنا گیا کہ اس پنڈلی میں طاقت دوسری پنڈلی سے زیادہ ہوگئی تھی۔حضور کے لعاب میں بہت معجزات تھے: یہاں تو وہ(۱)لعاب ہڈی کا سریش بن گئی(۲)معاذ ابن عفراء کے کٹے ہوئے بازو میں لگا تو بازو جوڑ دیا(۳)حضرت علی کی دُکھتی ہوئی آنکھ میں لگا تو ممیرے کا کام دیا(۴)حضرت طلحہ و(۵)جابر کے گھر ہانڈی و آٹے میں پڑ گیا تو ان میں ایسی برکت ہوئی کہ چار سیر جو سے سینکڑوں آدمی سیر ہوگئے(۶)حدیبیہ کے کنویں میں پڑا تو اس کا تھوڑا پانی زیادہ ہوگیا(۷)کھاری کنوؤ ں میں پڑا تو کنویں میٹھے ہوگئے(۸)حضرت صدیق کو سانپ نے کاٹا وہاں یہ لعاب لگا تو زہر کا تریاق بن گیا(۹)چاہ زمزم میں لعاب شریف پڑا تو وہ تاقیامت ہر مرض کی شفا بن گیا(۱۰)ایک عیسائی قوم مسلمان ہوئی تو ان کے لیے ایک مشکیزے میں کلی کر کے پانی بھردیا فرمایا اپنے گرجے کی زمین پر چھڑک دو جگہ طاہر طیب عظمت والی ہوجائے وہاں مطہر بن گیا۔
|
5877 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن جَابر قال إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ فجاؤوا الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ: «أَنَا نَازِلٌ» ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّام لانذوق ذوقا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ جراباً فِيهِ صاعٌ من شعير وَلنَا بَهْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فساررتُه فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أهلَ الخَنْدَق إِن جَابِرا صَنَعَ سُوراً فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ» . وَجَاءَ فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرمْتنا فبصقَ وَبَارك ثمَّ قَالَ «ادعِي خابزة فلتخبز معي وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا» وَهُمْ أَلْفٌ فَأَقْسَمَ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. |
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا ۱؎ تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۲؎ عرض کیا کہ یہ پتھر خندق میں پیش آگیا ہے تو فرمایا ہم اتریں گے حضور اُٹھے حالانکہ آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا،ہم تین دن تک اس طرح رہے تھے کہ کوئی چکھنے کی چیز نہیں چکھی تھیں۳؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کدال لی پتھر پر ماری تو پتھر ریگ رواں بن گیا۴؎ پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ۵؎ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت بھوک دیکھی ہے ۶؎ تو انہوں نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کی پٹھیا تھی۷؎ میں نے اسے ذبح کیا میری بیوی نے جو پیسے ۸؎ حتی کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا میں نے آپ سے چپکے سے سرگوشی کی عرض کیا یارسول اﷲ ہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پِیسے ہیں ۹؎ حضور سرکار آپ اور آپ کے ساتھ چھوٹی جماعت تشریف لائیں ۱۰؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان فرمادیا کہ اے خندق والو جابر نے کھانا تیار کیا ہے چلو ۱۱؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی نہ اتارنا اور اپنے آٹے کی روٹی پکانا شروع نہ کرناحتی کہ میں آجاؤ ں۱۲؎ پھر حضور تشریف لائے تو حضور کے سامنے آٹا پیش کیا حضور نے لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی پھر ہماری ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اس میں لعاب ڈالا۱۳؎ پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور اپنی ہانڈی سے شوربا نکالو۱۴؎ اور اسے نہ اتارو مجاہدین ایک ہزار تھے،میں اﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ ان سب نے کھایا حتی کہ کھانا چھوڑ دیا ۱۵؎ اور لوٹ گئے حالانکہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پکایا جارہا تھا ۱۶؎ جیساکہ تھا۔ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع