دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎  اس قبہ کی جگہ اب ایک مسجد بنی ہے جسے مسجد عریش کہتے ہیں۔اس کے سامنے ایک میٹھے پانی کا چشمہ ہے،فقیر نے اس مسجد میں نماز پڑھی ہے اور ایک بار پڑھائی ہے اور اس چشمہ میں غسل کیا ہے۔

۲؎  شاید اس عہد و وعدہ سے مراد وہ عہد و وعدہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے"وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی کے وعدہ کے وسیلے سے دعا کرنا سنت ہے بلکہ اس کے نبی کے وعدے کے توسل سے دعا کرنا حکم الٰہی ہے،فرماتا ہے کہ ہم سے یوں دعا کیا کروں"رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ"یہ تقاضا نہیں بلکہ توسل ہےیعنی وسیلہ کے ذریعہ دعا کرنا۔

۳؎  یعنی اگر تو نے ان مسلمانوں کی مدد نہ فرمائی اور یہ شکست کھا گئے یا شہید ہوگئے تو پھر دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔حضور انور نے یہ دعا اس جوش سے کی کہ آپ کی چادر مبارک کندھے شریف سے گر گئی اور حضور انور پر بہت رقت بلکہ وارفتگی طاری ہوگئی۔(اشعۃ اللمعات)یہ دعا تھی کہ تیر قضا تھا جو اپنا کام کر گیا۔

۴؎  حضرت ابوبکر صدیق کے عرض معروض کا مقصد ہے کہ یارسول اﷲ حضور انور جو یہ دعا فرمارہے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں،حضور یقین فرمائیں کہ حضور کی دعا سے ہمارے دلوں کو بالکل قوت و اطمینان میسر ہو گئے ہیں، حضور یہ دعا کافی ہے ہمارے دل قوی اور مطمئن ہوچکے ہیں۔اس عرض کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باﷲ حضور انور کو پریشانی تھی اورحضرت صدیق اکبر کو اطمینان تھا،حضور انور کو اﷲ کی رحمت سے اپنی فتح کا یقین تھا یہ دعا مسلمانوں کے دلوں کو چین دلانے کے لیے تھی"اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ"۔

۵؎  اس میں بھی غیبی خبریں ہیں کہ بفضلہ تعالٰی فتح ہماری ہوگی کفار مارے جائیں گے اور جو بچیں گے وہ بھاگ جائیں گے مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا۔

5873 -[6]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: «هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فرسه عَلَيْهِ أَدَاة الْحَرْب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہیں سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن فرمایا یہ جبریل ہیں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہیں ان پر جنگ کے ہتھیار ہیں ۱؎(بخاری)

۱؎ اس میں غیبی خبر ہے کہ ہم حضرت جبریل ان کے گھوڑے اور ان کی حرکات و سکنات کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں فرشتوں کا آنا مسلمانوں کی ہمت افزائی کے لیے نہ کہ کفار کے لیے،ان کی ہلاکت کے لیے صرف ایک فرشتہ ہی کافی ہے۔

5874 -[7]

وَعنهُ قال: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي إِثْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتُ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ. إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:«صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سبعين. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ایک مسلمان آدمی اس دن ایک مشرک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا ۱؎ جو اس سے آگے تھا کہ ناگاہ اس نے اس کافر کے اوپر کوڑے کی مار اور سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا اے حیزوم آگے بڑھ ۲؎ کہ اس نے سامنے اس مشرک کو دیکھا جو مرا پڑا تھا۳؎  اس نے اس مشرک میں غور کیا تو اس کی ناک پر نشان لگ گیا تھا۴؎  اور اس کا چہرہ چر گیا تھا کوڑے کی مار کی طرح وہ کافر سارا کا سارا سبز ہوگیا تھا ۵؎ پھر انصاری آیا اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دی آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے ۶؎ چنانچہ اس دن غازیوں نے ستر کافروں کو قتل کیا ستر کو قید کیا ۷؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن