30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا کہ نبی یقینًا ہر بات جانتے ہیں،نبی کے معنی غیبی خبر والے یعنی غیبی خبریں دینے والے یا خبریں رکھنے والے یا سب کی خبر لینے والے۔ان سوالات نے نبی کا مقام بتادیا نبی بے خبر نہیں ہوتے اور بے خبر نبی نہیں ہوتے۔
۴؎ خیال رہے کہ نبی کو علوم غیبیہ آہستگی سے عطا ہوتے ہیں۔چنانچہ یہاں اس کا ذکر ہے کہ اس وقت جبریل امین کے ذریعہ مجھے اس وقت ان کے جوابات بتائے اس میں حضرت ابن سلام کی نہایت ہی عزت افزائی ہے کہ ان کے سوالات کے جوابات آسمان سے آئے۔
۵؎ اس کا تفصیلی ذکر باب علامات القیامت میں ہوچکا ہے۔یہ آگ قریب قیامت عدن سے اُٹھے گی لوگ آگے آگے بھاگیں آگ پیچھے پیچھے ہوگی،رات کو ٹھہرا کرے گی تاکہ لوگ آرام کرسکیں،سب کو فلسطین یا شام میں پہنچا کر غائب ہوجائے گی۔ اول علامت سے مراد ہے قیامت سے بالکل متصل بڑی علامت پہلی یہ ہوگی۔
۶؎ اس کا ذکر بھی باب صفۃ الجنۃ واھلھا میں ہوچکا کہ جنتیوں کو سب سے پہلے زمین کی روٹی اور مچھلی جس پر زمین اٹھانے والی گائے کھڑی ہے اس کی کلیجی کا مزیدار کنارہ کھلایا جاوے گا اس کے بعد انہیں کبھی بھوک نہ لگے گی،پھل فروٹ لذت کے لیے کھایا کریں گے۔
۷؎ یعنی اگر رحم میں پہلے مرد کی منی گرے تو بچہ باپ کے ہم شکل ہوتا ہے اور اگر پہلے عورت کی منی گرے تو ماں کی ہم شکل ہوتا ہے،اگر مرد کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکا ہوتا ہے اور ماں کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکی ہوتی ہے اس لیے جس عورت کے لڑکیاں ہی ہوتی ہوں اسے شروع حمل میں بعض دوائیں کھلائی جاتی ہیں جن سے مرد کا نطفہ قوی ہوجاوے اور بچہ لڑکا بنے، تعویذ دعائیں بھی اسی مقصد کے لیے دیئے جاتے ہیں۔یہ مضمون کچھ فرق کے ساتھ کتاب الطہارۃ باب الغسل میں گزر چکا ہے۔
۸؎ یعنی حضور کے ان جوابات سے مجھے حضور کی نبوت کا یقین ہوگیا۔کوئی یار کا رخسار دیکھ کر ایمان لایا،کوئی گفتار سن کر،کوئی رفتار دیکھ کر،کسی نے دلیل سے مانا،کسی نے دل سے،حضرت عبداﷲ چہرہ انور دیکھ کر ہی دل سے ایمان لاچکے تھے مگر زبانی اقرار کے لیے احتیاطًا یہ سوالات کیے وہ سمجھے کہ پانی پینا چھان کر مرشد کرنا جان کر۔
۹؎ یعنی یارسول اﷲ میں چاہتا ہوں کہ حضور انور یہود میں میرا مقام معلوم فرمالیں میرے اسلام کی یہود کو خبر نہ دیں ورنہ وہ جھوٹ بول کر مجھے بگاڑ کر پیش کریں گے بلکہ حضور پہلے ان سے میرے متعلق دریافت کریں کہ میرے متعلق ان کا اعتقاد کیا ہے پھر میرے اسلام کی انہیں خبر دیں یہ فخر نہیں بلکہ رب کی نعمت کا اظہار ہے۔
۱۰؎ یعنی خاندانی لحاظ سے بھی وہ ہم سب میں بہتر ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،ان کا خاندان ان کا نسب ہم سب میں اعلیٰ ہے،وہ حسب و نسب میں بہت اونچے ہیں اور علمی عملی لحاظ سے ہم سب سے افضل ہیں،توریت کے بڑے عالم اور اس پر عامل ہیں۔خیرنا و سیدنا میں یہ فرق ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ اولاد نبی ہونا اﷲ کی نعمت ہے بشرطیکہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ ہو کیونکہ حضور انور نے ان یہود کے اس قول کی تردید نہیں فرمائی یونہی علمی خاندان سے ہونا اﷲ کی نعمت ہے۔ان تمام کے متعلق ہماری کتاب الکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسول کا مطالعہ کرو جس میں کہا گیا ہے کہ حضور کا نسب شریف طیب و طاہر اور قیامت میں کام آنے والا ہے۔
۱۱؎ ان کے نزدیک اسلام ایک مصیبت تھی انہوں نے یہ کہا کہ ابن اسلام کے متعلق یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہو جاویں یہ لفظ یا خبر ہے یا دعا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع