30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5870 -[3] وَعَن أنس قال سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِمَقْدَمِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ: فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَمَا يَنْزِعُ الولدُ إِلَى أبيهِ أَو إِلَى أمه؟ قا ل: «أَخْبرنِي بهنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوت وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزْعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ» . قَالَ: أشهد أَن لاإله إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يعلمُوا بِإِسْلَامِي من قبل أَن تَسْأَلهُمْ يبهتوني فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ فِيكُمْ؟» قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سيدِنا فَقَالَ: «أرأَيتم إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟» قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا فَانْتَقَصُوهُ قَالَ: هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رسولَ الله رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ عبداﷲا بن سلام نے رسول اﷲ کی تشریف آوری کی خبر سنی حالانکہ وہ ایک زمین میں کام کر رہے تھے ۱؎ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،عرض کیا کہ میں آپ سے تین ایسی باتیں پوچھتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۲؎ قیامت کی پہلی علامت کیا ہے اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے اور بچے کو کون سی چیز اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے۳؎ راوی نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ابھی مجھے ان کی خبر جبریل علیہ اسلام نے دی۴؎ قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچادے گی ۵؎ اور پہلا وہ کھانا جسے جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہے ۶؎ اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجاوے تو مرد بچہ کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوجاوے تو وہ کھینچ لیتی ہے ۷؎ عبداﷲ بولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اﷲ کے رسول ہیں ۸؎ یارسول اﷲ یہود بہتان لگانے والی قوم ہے اگر آپ کی پوچھ گچھ سے پہلے وہ میرے اسلام کو جان لیں تو مجھے بہتان لگادیں گے۹؎ چنانچہ یہود آئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں عبداﷲ کیسے شخص ہیں وہ بولے کہ ہم میں بہترین ہیں اور ہمارے بہترین کے بیٹے ہیں ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۱۰؎ فرمایا بتاؤ تو اگر عبداﷲ ابن سلام مسلمان ہوجائیں وہ بولے کہ انہیں اﷲ اس سے پناہ دے ۱۱؎ تو عبداﷲ نکلے بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اﷲ کے رسول ہیں تو یہود بولے کہ وہ ہمارے بدترین ہیں اور ہمارے بدترین کے بیٹے ہیں۱۲؎ ان کی بہت برائی کی، عبداﷲ نے کہا یارسول اﷲ یہ ہی وہ چیز ہے جس سے میں ڈرتا تھا۱۳؎(بخاری) |
۱؎ باغ میں پھل چن رہے تھے وہ پھل آپ کی گود میں تھے دامن پیچھے سے بندھا ہوا تھا،حضور انور کے پاس آئے تو خوشی کے مارے وہ پھل گھر میں رکھ دینا بھول گئے اسی طرح پھل گود میں لیے ہوئے حاضر ہوگئے۔
۲؎ یعنی ان تین سوالوں کے جوابات صرف نبی کو یا ان کے وسیلہ سے،ان کی کتابوں سے،ان کی تعلیم سے دوسروں کو معلوم ہو سکتے ہیں۔مجھے خبر ہے کہ آپ نے کوئی آسمانی کتاب کسی عالم سے پڑھی نہیں ان نبیوں کی تعلیمات آپ تک پہنچی نہیں تو اب آپ نور نبوت سے جواب دے سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداﷲ ابن سلام بھی تو نبی نہ تھے انہیں یہ جوابات کیسے معلوم تھے کیونکہ حضرت عبداﷲ توریت کے بڑے عالم ماہر تھے۔
۳؎ خیال تو کرو کہ کیسے گہرے سوالات ہیں جن میں ابتداء انتہا سب کا سوال ہے کہ بیٹا یا بیٹی باپ کے ہم شکل یا ماں کی صورت پر کیوں ہوتے ہیں یکساں کیوں نہیں ہوتے،یہ مبداء کے متعلق سوال ہے اور اہلِ جنت کو پہلی غذا کیا دی جاوے گی،یہ انتہا کے متعلق سوال ہے،حضور انور نے یہ نہ فرمایا کہ مجھ سے نماز وغیرہ کے مسائل عقائد اسلامیہ پوچھو مجھے ان باتوں کی کیا خبر۔ معلوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع