30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عشق نے کیتا حال فقیراں کپڑے کرکے لیراں لیراں بند چاکیتا غار نبی دا اوہ وس دا
۵؎ یعنی حضور بے فکر سوجائیں ہر چہار طرف پہرہ میں دیتا رہوں گا کسی کو آپ تک نہ پہنچنے دوں گا،رات بھر تو جانوروں کو حضور سے دور رکھ چکا ہوں اب دشمن انسانوں کو حضور سے دور رکھوں گا،اب بھی صدیق حضور انور کے پاس قبر میں سو رہے ہیں پہرا دے رہے ہیں کہ کسی نااہل کو اس سرکار تک نہیں پہنچنے دیتے۔ہر چاہنے والے فقیر و بے نوا کو حضور تک آپ ہی پہچانتے ہیں،یہ پہرا تاقیامت قائم ہے،اس گنہگار نے خواب میں اس کا نظارہ کیا۔انفض بنا ہے نفض سے بمعنی ہر چہار طرف نظر رکھنا،ہر ایک کا حال دیکھنا اس لیے جاسوس جماعت کو نفضہ کہا جاتا ہے دیکھو اشعہ اور مرقات۔
۶؎ خرجت سے معلوم ہوا کہ حضرت صدیق وہاں ہی بیٹھے نہ رہے بلکہ حضور کے اردگرد چکر لگاتے پہرہ دیتے رہے کہ کوئی کسی طرف سے آتا نہ ہو۔
۷؎ ظاہر یہ ہے کہ جناب صدیق نے اس سے یہ دودھ خریدا تھا مانگا نہ تھا اور یہ بکریاں اس چرواہے کی اپنی تھیں یا مالک کی اجازت تھی کہ دودھ فروخت کردیا کرے لہذا اس واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں۔(لمعات)
۸؎ قعب کہتے ہیں لکڑی کے پیالے کو،کثبہ کے معنی ہیں تھوڑا سا یعنی جناب صدیق اکبر کے ساتھ ایک لکڑی کا پیالہ تھا آپ نے اس میں دودھ چوایا۔
۹؎ فوافقتہ کی دو روایتیں ہیں: ایک روایت پہلے ق بعد میں ف سے بمعنی انتظار کرناٹھہرے رہنا،یعنی میں حضور کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا کہ جب جاگیں تب لسی پلاؤ ں۔دوسرے پہلے ف بعد میں قاف سے یعنی میں نے حضور کی موافقت کی کہ کچھ دیر میں بھی حضور انور کے پاس ہی سوگیا۔(اشعۃ اللمعات)
۱۰؎ یعنی میرے ساتھ پانی کا مشکیزہ تھا میں نے اس سے ٹھنڈا پانی دودھ میں اس قدر ڈالا کہ دودھ کچی لسی بن گیا لسی بھی خوب ٹھنڈی۔
۱۱؎ یعنی میں اصرار کرکے بار بار حضور کو پلاتا رہا اور حضور میری عرض قبول کرکے پیتے رہے میں خوش ہوتا رہا یا تو سارا ہی پلا دیا یا کچھ بقیہ جناب صدیق اکبر نے پیا دونوں صورتوں میں آپ کی خوش نصیبی خوش قسمتی پر قربان جائیے۔
۱۲؎ یعنی جب سورج ڈھل گیا اور دوپہری کی تیزی قدرے کم ہوگئی تب ہم دونوں روانہ ہوگئے۔
۱۳؎ کفار مکہ نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کرکے ہمارے حوالہ کردے یا انہیں شہید کرکے ہم کو ثبوت دے دے ہم اسے ایک سو اونٹ انعام دیں گے،اس اعلان پر بہت لوگ چوطرفہ دوڑ پڑے،اس طرف حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعثم مدلجی کنانی آپہنچے اس وقت یہ کافر تھے بعد میں بڑے جلیل القدر صحابی بنے رضی اﷲ عنہ۔
۱۴؎ اس وقت حضور انور تلاوت قرآن میں مشغول تھے محویت کے عالم میں تھے،جناب صدیق ہر چہار طرف دیکھ رہے تھے انہیں اپنا خوف نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جان پاک کا خوف،اپنے کو تو غار ثور میں فدا کرچکے تھے۔
۱۵؎ حضور انور کا یہ فرمان عالی اب دوسری بار جناب صدیق نے سنا پہلے غار ثور میں سن چکے تھے اب اس جگہ سنا،جناب موسیٰ علیہ السلام سے بھی بنی اسرائیل نے یہ کہا تھا انا المدرکون ہم تو پکڑے گئے تو آپ نے فرمایا "اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ" وہاں اپنا ذکر پہلے تھا رب کا ذکر بعد میں،یہاں اﷲ کا نام پہلے ہے اپنا ذکر بعد میں،نیز وہاں ربی یعنی صفاتی نام کا ذکر ہے یہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع