30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5869 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ يَأْتِ عَلَيْهَا الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدَيَّ يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً وَقُلْتُ نَمْ يَا رسولَ الله وَأَنَا أَنْفُضُ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ قُلْتُ: أَفِي غنمكَ لبنٌ؟ قَالَ: نعم قلتُ: أفتحلبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوَى فِيهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رضيت ثمَّ قَالَ: «ألم يَأن الرحيل؟» قلتُ: بَلى قَالَ: فارتحلنا بعد مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا» فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمَا دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يلقى أحدا إِلا قَالَ كفيتم مَا هَهُنَا فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ. |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ اپنے والد سے راوی انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو بکر مجھے بتاؤ کہ جب تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ گئے تھے تو تم نے کیا کیا تھا ۱؎ فرمایا ہم اپنی رات چلتے رہے اور کل بھی حتی کہ دوپہری کا ٹھہرنے والا ٹھہر گیا ۲؎ اور راستہ خالی ہوگیا کہ اس میں کوئی نہیں گزرتا تھا تو ہم کو ایک لمبا پتھر ظاہر ہوا جس کا سایہ تھا اس پر دھوپ نہیں آئی تھی ہم اس کے پاس اتر گئے۳؎ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ہموار کردی جس پر حضور سوئیں اور اس پر پوستین بچھادی ۴؎ اور میں نے عرض کیا یارسول اﷲ سو جائیے میں آپ کے اردگرد پہرہ دوں گا ۵؎ چنانچہ آپ سو گئے اور اور میں آپ کے اردگرد پہرہ دینے لگا۶؎ تو میں نے ایک چرواہا سامنے سے آتا دیکھا میں نے کہا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے وہ بولا ہاں میں نے کہا کیا دودھ دے گا بولا ہاں۷؎ تو اس نے ایک بکری پکڑی ایک پیالہ میں تھوڑا سا دودھ دوہا ۸؎ میرے ساتھ برتن تھا جو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لایا تھا جس میں آپ سیراب ہوتے تھے پیتے تھے اور وضو کرتے تھے تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے آپ کو جگانا پسند نہیں کیا تو میں نے انتظار کیا حتی کہ آپ بیدار ہوگئے ۹؎ پھر میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتی کہ اس کا تلہ بھی ٹھنڈا ہوگیا ۱۰؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ حضور پئیں آپ نے پیا حتی کہ میں راضی ہوگیا ۱۱؎ پھر فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا پھرہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے۱۲؎ اور سراقہ ابن مالک ہمارے پیچھے پہنچ گئے۱۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم آن لیے گئے۱۴؎ فرمایا غم نہ کرو اﷲ ہمارے ساتھ ہے ۱۵؎ پھر انکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی تو ان کا گھوڑا ان کے ساتھ پیٹ تک دھنس گیا سخت زمین میں۱۶؎ سراقہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں صاحبوں نے مجھ پر بددعا کی ہے ۱۷؎ میں آپ دونوں کو اﷲ کا ضمان دیتا ہوں کہ میں تم دونوں سے تلاش کرنے والوں کو دور کردوں گا ۱۸؎ چنانچہ ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی وہ چھوٹ گئے ۱۹؎ پھر وہ یہ کرنے لگے کہ کسی سے نہیں ملتے تھے مگر کہتے تھے تم کفایت کیے گئے ادھر وہ نہیں ہیں کسی سے نہ ملتے مگر اسے واپس کردیتے ۲۰؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ چونکہ ہجرت کی رات صرف جناب صدیق ہی حضور انور کے ساتھ تھے اس لیے لوگ یہ واقعہ انہیں سرکار سے پوچھا کرتے تھے اور جناب صدیق کی یہ خدمت ایسی مقبول ہوئی کہ سبحان اﷲ! جب جناب صدیق حضور کا سر مبارک اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھے ہوں گے اور خوب جی بھر بھر کر چہرہ انور کو دیکھتے ہوں گے اس وقت ان کے دل کا کیا حال ہوگا،وہ اس رات ایسی عبادات کر رہے تھے جو فرش وعرش پر کوئی نہ کر رہا تھا،ان کا زانو حضور کی رحل بنی تھی سامنے جمال یار تھا۔
۲؎ یعنی سورج بیچ آسمان میں آگیا ہمارے سروں پر ٹھہرگیا،اہل عرب دوپہری کے وقت کو کہتے ہیں کہ سورج بیچ آسمان پر ٹھہر گیا کیونکہ اس وقت سورج کی رفتار بہت کم محسوس ہوتی ہے گویا وہ ٹھہرا ہوا ہے یہ ہی محاورہ یہاں استعمال ہوا ہے۔
۳؎ یعنی ہم کو پہاڑ کے دامن میں ایک چوڑا پتھر نظر پڑا جس کے نیچے سایہ تھا وہاں دھوپ نہ پہنچ سکی تھی میں مع اپنے محبوب کے اس سایہ میں اتر گئے۔
۴؎ جناب صدیق اکبر اس سفر میں پانی کا ایک مشکیزہ،ایک کھال کچھ پیسے اپنے ہمراہ لائے تھےوہ بھی حضور کے لیے اور اپنے لیے حضور کو لائے تھے سارا مال و متاع مکہ میں چھوڑ آئے تھے اور جسم کی چادر پھاڑ پھاڑ کر غار ثور کے حوالہ کر آئے تھے آپ کا جسم بے چادر تھا ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع