دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے سانپ سے کٹوالیا،خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا،یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہوں۔

۳؎  حضرت صدیق اکبر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو رب تعالٰی کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا"اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصٰحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا"۔اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر کے چند فضائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ انہیں حضور کا ثانی اثنین،پھر انہیں تیسرا کون کرے حضور کے بعد درجہ اس ثانی کا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں حضور کا صحابی فرمایا گیا لِصٰحِبِہٖ ان کی صحابیت قطعی یقینی ہے۔تیسرے یہ کہ انہیں یار غار یعنی حضور کا گہرا دوست غار کا ساتھی کہا گیا آج بھی کہتے ہیں فلاں میرا یار غار ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور نے فرمایا:"اِنَّ اللہَ مَعَنَا "۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی جیسے اپنے حبیب کے ساتھ ہے ویسے ہی جناب صدیق کے ساتھ بھی ہے یعنی جو ان دونوں کے دامن سے الگ ہو اللہ اس کے ساتھ نہیں۔خیال رہے کہ اﷲ ثالثھما کہنا عین ایمان ہے اور ان اﷲ ثالث ثلثۃ کہنا عین کفر ہے یعنی خدا کو نسبت کرو ناقص عدد کی طرف نہ کہ برابر عددکی طرف جیسے وھو رابعھم اور و ھو ثالثھم رب کو قرآن میں فرمایا گیا ہے۔(مرقات)یہ واقعہ اس لیے معجزہ بنا کہ حضور کی خبر کے مطابق کفار ان دونوں حضرات کو نقصان نہ پہنچاسکے،مکڑی کے جالے اورکبوتری کے انڈے کے ذریعہ رب نے ان دونوں جانوں کو کفار سے بچالیا۔(مرقات)پھر حضرت صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سب کچھ کہتے رہے مگر ان کی آواز کفار نے نہیں سنی اور کفار کی آوازیں غار میں جناب صدیق سنتے رہے یہ بھی معجزہ ہے۔

5869 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ يَأْتِ عَلَيْهَا الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدَيَّ يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً وَقُلْتُ نَمْ يَا رسولَ الله وَأَنَا أَنْفُضُ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ قُلْتُ: أَفِي غنمكَ لبنٌ؟ قَالَ: نعم قلتُ: أفتحلبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوَى فِيهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رضيت ثمَّ قَالَ: «ألم يَأن الرحيل؟» قلتُ: بَلى قَالَ: فارتحلنا بعد مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا» فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمَا دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يلقى أحدا إِلا قَالَ كفيتم مَا هَهُنَا فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ.

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ اپنے والد سے راوی انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو بکر مجھے بتاؤ کہ جب تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ گئے تھے تو تم نے کیا کیا تھا ۱؎ فرمایا ہم اپنی رات چلتے رہے اور کل بھی حتی کہ دوپہری کا ٹھہرنے والا ٹھہر گیا ۲؎  اور راستہ خالی ہوگیا کہ اس میں کوئی نہیں گزرتا تھا تو ہم کو ایک لمبا پتھر ظاہر ہوا جس کا سایہ تھا اس پر دھوپ نہیں آئی تھی ہم اس کے پاس اتر گئے۳؎  اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ہموار کردی جس پر حضور سوئیں اور اس پر پوستین بچھادی ۴؎  اور میں نے عرض کیا یارسول اﷲ سو جائیے میں آپ کے اردگرد پہرہ دوں گا ۵؎  چنانچہ آپ سو گئے اور اور میں آپ کے اردگرد پہرہ دینے لگا۶؎ تو میں نے ایک چرواہا سامنے سے آتا دیکھا میں نے کہا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے وہ بولا ہاں میں نے کہا کیا دودھ دے گا بولا ہاں۷؎  تو اس نے ایک بکری پکڑی ایک پیالہ میں تھوڑا سا دودھ دوہا ۸؎ میرے ساتھ برتن تھا جو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لایا تھا جس میں آپ سیراب ہوتے تھے پیتے تھے اور وضو کرتے تھے تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے آپ کو جگانا پسند نہیں کیا تو میں نے انتظار کیا حتی کہ آپ بیدار ہوگئے ۹؎ پھر میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتی کہ اس کا تلہ بھی ٹھنڈا ہوگیا ۱۰؎  میں نے عرض کیا یارسول اﷲ حضور پئیں آپ نے پیا حتی کہ میں راضی ہوگیا ۱۱؎ پھر فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا پھرہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے۱۲؎ اور سراقہ ابن مالک ہمارے پیچھے پہنچ گئے۱۳؎  میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم آن لیے گئے۱۴؎  فرمایا غم نہ کرو اﷲ ہمارے ساتھ ہے ۱۵؎ پھر انکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی تو ان کا گھوڑا ان کے ساتھ پیٹ تک دھنس گیا سخت زمین میں۱۶؎  سراقہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں صاحبوں نے مجھ پر بددعا کی ہے ۱۷؎ میں آپ دونوں کو اﷲ کا ضمان دیتا ہوں کہ میں تم دونوں سے تلاش کرنے والوں کو دور کردوں گا ۱۸؎  چنانچہ ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی وہ چھوٹ گئے ۱۹؎ پھر وہ یہ کرنے لگے کہ کسی سے نہیں ملتے تھے مگر کہتے تھے تم کفایت کیے گئے ادھر وہ نہیں ہیں کسی سے نہ ملتے مگر اسے واپس کردیتے ۲۰؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن