30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں اسریٰ بعبدہ است من المسجد الحرام
تاعرصۂ وجوب کہ اقصاء عالم است کانجانہ جا است ونے جہت ونے شان و نام
۴؎ یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے بیان میں جو آیت کریمہ"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"وارد ہے اس کی تفسیر حضور انور نے پتنگوں سے کی۔پتنگے یا تو فرشتے ہیں یا ارواح انبیاء جو پتنگوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ اس بیری کے ہر پتہ پر فرشتوں کی فوجیں ہیں،بزرگوں کی روحیں اور سبز رنگ کے غیبی پرندے اور رنگ برنگے انوار لہذا احادیث میں تعارض نہیں کہیں کسی چیز کا ذکر ہے کہیں کسی اور چیز کا۔اس سے پہلے گزرا کہ حضور نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ وہاں کیا چیزیں ہیں وہاں حضور انور کے علم کی نفی مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ تمہیں وہ چیزیں کیسے بتاؤں سمجھاؤں وہ بیان میں نہیں آسکتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔میں ان کے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں پاتا،یوں ہی رب کا فرمانا:"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"اس کا مطلب یہ نہیں کہ رب کو بھی خبر نہیں کہ سدرہ پر کون سی چیز چھا گئی تھی مطلب یہ ہی ہے کہ اس کا بیان نہیں ہوسکتا جیسے رب فرماتاہے: "فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الْـیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ"بہرحال اس قسم کے فرمان کا منشا بے خبری نہیں۔(مرقات)
۵؎ یا تو سورۂ بقرہ کی آخری آیات معراج کی رات بھی حضور کو عطا کی گئیں اور بعد ہجرت بھی نازل کی گئیں،پہلی عطا بغیر واسطہ فرشتہ ہوئی اور دوبارہ نزول بواسطہ فرشتہ ہوا،یا یہ مطلب ہے کہ ان دعاؤں کی قبولیت وہاں عطا کی گئی جو ان آیات میں تعلیم کی گئی ہے حضور سے وعدہ کرلیا گیا کہ جو بھی یہ دعائیں ہم سے مانگے گا ہم اسے عطا کریں گے،یا مطلب یہ ہے کہ ان آیات کے فیوض ان کے انوار ان کی برکتیں جو شمار سے باہر ہیں حضور کو اس رات عطا کی گئیں۔(مرقات،اشعہ)ہوسکتا ہے کہ یہ تمام چیزیں مراد ہوں ان آیات کے الفاظ،قبولیت،انوار برکات سب کچھ اس رات حضور کو عطا ہوئیں،یہ آیات"اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سے لے کر"فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک ہیں۔
۶؎ شرک بالله سے مراد مطلقًا کفر ہے یعنی کفر تو نہیں بخشا جاوے گا اس کے علاوہ سارے گناہ قابل بخشش ہیں،ہاں حقوق العباد خود حق والوں سے معاف کرائے جاویں گے جن کی تین نوعیتیں ہوں گی۔قرآن کریم میں قریبًا ہر جگہ شرک بمعنی کفر آتا ہے"لَا تُنۡکِحُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡ"۔
|
5866 -[5] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا فَكُرِبْتُ كَرْبًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي. فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جعد كَأَنَّهُ أَزْد شَنُوءَةَ وَإِذَا عِيسَى قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شبها عروةُ بن مسعودٍ الثَّقفيُّ فإِذا إِبْرَاهِيمُ قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ لِي قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ: الْفَصْلِ الثَّانِي |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے کو حطیم میں دیکھا ۱؎ قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوالات کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی چیزوں کے متعلق سوالات کیے جو مجھے یاد نہ رہی تھیں ۲؎ تو میں اتنا غمگین ہوا جتنا کبھی نہ ہوا تھا ۳؎ تو الله نے میرے سامنے اسے کردیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے نہ پوچھتے تھے مگر میں انہیں بتا دیتا تھا۴؎ اور میں نے اپنے کونبیوں کی جماعت میں دیکھا ۵؎ تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے وہ درمیانہ قد گھونگریلے بال والے ہیں گویا وہ شنوءہ کے لوگوں میں سے ہیں ۶؎ اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۷؎ ان سے قریبًا ہم شکل عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں ۸؎ اورا براہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۹؎ سب میں زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب یعنی میں ہوں۱۰؎ پھر نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انکی امامت کی ۱۱؎ پھر جب نماز سے میں فارغ ہوگیا تو مجھ سے کسی کہنے والے نے کہا اے محمد یہ آگ کے خزانچی مالک ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے ان کی طرف توجہ کی تو انہوں نے مجھے سلام کرنے سے ابتداء کی۱۲؎ (مسلم) اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع