دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

یہاں کیوں آئے ہو کیا کسی کو لائے ہو ان کی خاطر تم بھی یہاں آئے،انہوں نے فرمایا ہاں انہیں کو لایا ہوں جن کے لیے یہ دروازہ کھلنا ہے۔

۸؎  یہ سوال انتہائی خوشی کی بنا پر ہے کہ کیا آج معراج کی رات ہے حضور بہ حیثیت مہمان بلائے گئے ہیں،فرمایا ہاں یہ وہی رات ہے۔

۹؎ واقعہ وہ ہی ہے جو پہلے بیان ہوچکا یعنی پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات،یہاں کچھ تفصیل ہوگئی ہے کہ جناب آدم علیہ السلام کو اس طرح پایا۔

۱۰؎  یہ مؤمنین اور کفار وہ ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے آئندہ تاقیامت پیدا ہونے والے ہیں وہ آپ کے اردگرد اس طرح جمع ہیں کیونکہ جو مؤمنین اور کفار پیدا ہوکر مرچکے وہ اس آسمان پر کیسے آسکتے ہیں۔مؤمنین کی روحیں اعلٰی علیین میں پہنچیں کفار کی روحیں سجین میں ان کا اجتماع کیسا۔(مرقات)یا یوں کہو کہ یہ وہ ہی مؤمنین و کفار ہیں جو مرچکے ہیں،وہ لوگ کبھی کبھار اپنے مقامات سے بلا کر یہاں اس طرح آدم علیہ السلام کو دکھائے جاتے ہیں،حضور انور جب وہاں پہنچے تو یہ ہی وقت تھا ان کی پیشی کا حضور انور نے یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اس واقعہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام تا قیامت ہر سعید و شقی سے خبردار ہیں کہ کون ایمان پر مرے گا اور کون کفر پر،یہ ہی بات علوم خمسہ سے ہے۔دوسرے یہ کہ ان سعید و شقی لوگوں کو حضور انور نے بھی معراج کی رات دیکھا ہے اور سب کو پہچانتے ہیں،حضور ہر ایک کے انجام سے خبردار ہیں     ؎

بلکہ قبل از زادن تو سالہا                          ہم چنیں بینند چندیں حالہا

۱۱؎ حضرت آدم علیہ السلام کا یہ ہنسنا رونا محبت پدری کی بنا پر تھا۔باپ اپنی اولاد کو اچھے حال میں دیکھے تو خوش ہوتا ہے اور تکلیف میں دیکھے تو غمگین ہوتا ہے یہ ہی حالت آپ کی اس وقت تھی کہ دوزخیوں کو دیکھ کر افسوس کرتے تھے کہ یہ میری اولاد کافر رہی دوزخ میں جائے گی،جنتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے کہ یہ میرے بچے خوش نصیب ہیں جنت میں جائیں گے۔

۱۲؎  یعنی حضور انور نے ان تمام رسولوں کے مقامات بالتفصیل بیان فرمائے تھے مگر تفصیل یاد نہ ر ہی  یہ یاد نہ رہنا حدیث کو ضعیف نہیں کردیتا کیونکہ جو انہیں یاد نہ رہا اس کی روایت ہی نہیں کی جو یاد نہ رہنا حدیث کو ضعیف کرتا ہے۔جب غلط بات حضور انور کی طرف غلطی سے نسبت کردے اسے سوء حفظ کہتے ہیں وہ یہاں موجود نہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں۔

۱۳؎ پچھلی حدیث میں گزرا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضور انور نے ساتویں آسمان میں پایا وہ ہی قوی ہے کیونکہ وہاں تفصیل موجود ہے کہ بیت المعمور سے پشت لگائے ہوئے پایا اور اگر یہ متعدد معراج کے واقعات ہیں تب تو کوئی دشواری ہی نہیں کہ ایک معراج میں حضور نے جناب ابراہیم کو چھٹے آسمان پر پایا دوسری معراج میں ساتویں آسمان پر پایا۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں آسمانوں پر حضور انور کا استقبال کیا چھٹے پر بھی اور ساتویں پر بھی تب حدیث واضح ہے۔

۱۴؎  ابن شہاب یعنی امام زہری کے حالات تو ہم بیان کرچکے۔ابن حزم کا نام محمد ابن عمرو ابن حزم ہے،ان کے والد صحابی ہیں، انصاری ہیں،محمد ابن عمرو ابن حزم       ۱۰ ؁ ہجری میں نجران میں پیدا ہوئے جب کہ ان کے والد حضور انور کی طرف سے نجران کے حاکم تھے،آپ جنگ حرہ میں شہید ہوئے،تریپن سال عمر پائی،   ۶۳ھ؁  میں واقعہ حرہ میں شہید ہوئے۔(مرقات و اکمال)

۱۵؎  ابوحیہ کا نام عامر یا مالک یا ثابت ابن نعمان انصاری ہے،صحابی ہیں،بدری ہیں،غزوہ احد میں شہید ہوئے۔

۱۶؎  مستوی ہر میدان کو نہیں کہتے بلکہ بلند اور اعلٰی میدان کو کہتے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن