30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارادہ کا ثواب مل گیا کہ نیکی کا ارادہ کرنا بھی نیکی ہے بلکہ نیکی کی آرزو اور تمنا کرنا بھی نیکی ہے۔حجاج حج کو جا رہے ہیں ایک غریب آدمی انہیں دیکھ کر اپنی محرومی پر آنسو بہارہا ہے،تمنا کر رہا ہے کہ میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں بھی جاتا اسے ثواب مل گیا۔ایک شخص حضرات صحابہ کرام کی خوش نصیبی میں غور کررہا ہے کہ وہ کیسے خوش بخت تھے کہ حضور کے دیدار سے مشرف ہوئے اور سوچتا ہے کہ ؎
جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
اسے اس تمنا کا ثواب مل رہا ہے اور ان شاءالله کل اسے صحابہ کرام کے ساتھ حشر نصیب ہوگا۔
۲۰؎ یعنی ارادۂ نیکی ایک نیکی ہے اور عمل نیکی دس نیکیاں ہیں یہ الله کا کرم ہے،پھر نیکی کے ہر عمل پر الگ ثواب،نماز کا ارادہ کرنا الگ نیکی،وضو کرنا علیحدہ نیکی،مسجد کو چلنا اور نیکی بلکہ ہر قدم الگ نیکی،وہاں نماز کے انتظار میں بیٹھنا الگ نیکی،نماز کے بعد دعا مانگنا الگ نیکی،نماز تو مستقل علیحدہ نیکی ہے،ہم کام کریں اپنی حیثیت کے لائق وہ عطا فرماتا ہے اپنی شان کے شایاں۔
۲۱؎ ھم اور عزم میں فرق ہے۔ھم سے مراد ہے خیال گناہ اس پر پکڑ نہیں ، عزم کے معنی ہے گنا ہ کا پورا ارادہ اس پر پکڑ ہے ،کسی کے قتل یا چوری کی تاک میں رہا مگر کرنہ سکا تو گنہگار ہوگیا ہاں خیال گناہ گناہ نہیں ہے بلکہ اس سے باز آجانا توبہ کرلینا نیکی ہے۔
۲۲؎ یعنی نیکی کی طرح گناہ میں اضافہ نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا ایک لاکھ بن جانا وہ ایک ہی گناہ ہے مگر ہے اتنا بڑا کہ دوسری جگہ کے ایک لاکھ گناہوں کی برابر ہے کیونکہ اس نے حرم شریف کی زمین پاک کی توہین کی جیسے رمضان میں روزہ توڑنا دوسرے زمانہ کے اکسٹھ روزے توڑنے کے برابر ہے مگر ہے ایک ہی جرم لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں نہ یہ دوسری احادیث کے خلاف ہے۔
۲۳؎ اس شرم کے معنی اور اس کی وجہ ابھی پچھلی حدیث میں عرض کردی گئی کہ یہ پروگرام رب تعالٰی اور حضور صلی الله علیہ و سلم کے درمیان پہلے سے طے شدہ تھا جو کچھ ہوا پروگرام کے ماتحت ہوا۔
|
5864 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابْن شهَاب عَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُرِجَ عني سقفُ بَيْتِي وَأَنا بِمَكَّة فَنزل جِبْرِيل فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٌ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بيَدي فعرج بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا. قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ. قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ جِبْرِيلُ. قَالَ: هَل مَعَك أحد؟ قَالَ: نعم معي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهِ بَكَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ. قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمين مِنْهُم أهل الْجنَّة والأسودة عَن شِمَاله أهلُ النَّار فَإِذا نظر عَن يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ " قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ثمَّ عرج بِي حَتَّى وصلت لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ» وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى. فَقَالَ: مَا فَرْضُ اللَّهِ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةً. قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِن أُمَّتكَ لَا تطِيق فراجعت فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُهُ فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ. فَقُلْتُ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطُلِقَ بِي حَتَّى انْتُهِيَ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ". |
روایت ہے ابن شہاب سے ۱؎ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی فرمایا کہ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا ۲؎ پھر جناب جبریل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ کھولا پھر اسے آب زمزم سے دھویا ۳؎ پھر سونے کا ایک طشت لائے حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا اسے میرے سینہ میں لوٹ دیا۴؎ پھر اسے سی دیا ۵؎ پھر میرا ہاتھ پکڑا تو مجھے آسمان کی طرف لے گئے ۶؎ تو جب میں دنیاوی آسمان تک پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے خزانچی سے کہا کھولو اس نے کہا کون ہے،انہوں نے کہا یہ جبرئیل علیہ السلام ہیں،کہا کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے کہا ہاں میرے ساتھ محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں ۷؎ اس نے کہا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہاں ہاں ۸؎ جب کھولا تو ہم دنیا کے آسمان میں چڑھ گئے وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے جن کے داہنے کچھ جماعتیں تھیں اور ان کے بائیں کچھ جماعتیں تھیں تو جب اپنے داہنے دیکھتے تو ہنستے تھے اور جب اپنے بائیں دیکھتے تو روتے تھے ۹؎ انہوں نے کہا نبی صالح فرزند صالح خوب آئے،میں نے جبرئیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کون ہیں،انہوں نے کہا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جماعتیں جو ان کے داہنے بائیں ہیں وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں،داہنے والے ان میں سے جنتی ہیں اور وہ جماعتیں جو ان کے بائیں طرف ہیں وہ دوزخی لوگ ہیں ۱۰؎ جب وہ اپنے داہنے دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور جب اپنے بائیں دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ۱۱؎ حتی کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے پھر اس کے خزانچی سے کہا کھولو ان سے خزانچی نے اس طرح کہا جو پہلے نے کہا،انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نے ذکر کیا کہ آپ نے آسمانوں میں حضرت آدم علیہ السلام،ادریس علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام،عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو پایا یہ یاد نہ رہا کہ ان کے مقامات کیسے تھے۱۲؎ بجز اس کے کہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ انہوں نے پہلے آسمان سے آدم علیہ السلام کو اور چھٹے آسمان میں ابراہیم علیہ السلام کو پایا۱۳؎ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابن حزم نے خبردی۱۴؎ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوحیہ انصاری کہا کرتے تھے ۱۵؎ کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے چڑھایا گیا حتی کہ میں ایک میدان میں پہنچا ۱۶؎ جس میں قلموں کی چرچراہٹ سنتا تھا۱۷؎ اور ابن حزم اور انس نے فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پھر الله تعالٰی نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۱۸؎ تو میں یہ لےکر واپس ہوا حتی کہ موسیٰ علیہ السلام پرگزرا ۱۹؎ کہ انہوں نے کہا کہ الله تعالٰی نے آپ کے ذریعہ آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا پچاس نمازیں فرض کیں۲۰؎ انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی۲۱؎ انہوں نے مجھے واپس کردیا رب نے آدھی نمازیں معاف کردیں میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو میں نے کہا کہ اس کی آدھی معاف فرمادیں۲۲؎ انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس ہوا رب نے اس کی آدھی اور معاف فرمادیں ۲۳؎ میں پھر موسیٰ کی طرف لوٹا،انہوں نے کہا کہ رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس گیا تو رب نے فرمایا کہ نمازیں پانچ ہیں وہ حقیقت میں پچاس ہیں ہمارے ہاں فیصلہ میں تبدیلی نہیں کی جاتی۲۴؎ میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے میں نے کہا کہ میں اپنے رب سے شرم کرتاہوں ۲۵؎ پھر مجھے لے گئے حتی کہ میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا ۲۶؎ اور اس پر مختلف رنگ چھا گئے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے ۲۷؎ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتی کی عمارتیں تھیں۲۸؎ اور اس کی مٹی مشک تھی ۲۹؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع