دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۹؎  یعنی ابراہیم علیہ السلام اس طرح کھڑے تھے کہ ان کا منہ تو میری طرف تھا اور ان کی پیٹھ شریف بیت المعمور سے لگی ہوئی تھی۔ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بیت المعمور خانہ کعبہ کے بالکل مقابل ہے،بعض نے فرمایا کہ یہ ہی بیت المعمور آدم علیہ السلام اپنے ساتھ لائے تھے پھر اٹھالیا گیا۔والله و رسولہ اعلم! (اشعۃ اللمعات)

۱۰؎  بیت المعمور فرشتوں کا کعبہ و قبلہ ہے کہ اس طرف رخ کرکے سجدے کرتے ہیں اور اس کی زیارت کرنے باری باری سے آتے ہیں،جو ایک بار کرجاتے ہیں وہ دوبارہ نہیں آتے،یہ زیارت فرشتوں کا حج ہے۔

۱۱؎  فیلۃ کی ت تانیث کی نہیں وحدت کی ہے یعنی اس بیری کے پتے ہاتھی کے کان برابر بڑے ہیں۔

۱۲؎ یعنی جب ہم سدرہ پر پہنچے تو اس پر ایک نور چھا گیا اس نور سے وہ سماں بندھا کہ اسے کوئی بیان نہیں کرسکتا۔اس گنہگار فقیر نے ایک صبح کو جالی شریف پر ایسے انوار دیکھے جو بیان نہیں ہوسکتے وہ نظارہ اب تک یاد ہے الله تعالٰی پھر دکھائے۔الٰہی ایں کرم بار دگرکن !

۱۳؎  یعنی میرے سوا کوئی اس کا حسن بیان نہیں کرسکتا اور مجھے اس کے کما حقہٗ بیان کی اجازت نہیں ایسے موقعہ پر متکلم مستثنٰی ہوتا ہے۔حضور نے تو الله تعالٰی کی ذات و صفات بیان فرمادیں،حضور ہی کے بیان سے دنیا نے خدا کو جانا مانا۔اعلٰی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں     ؎

اے رضا احمد پاک کا فیض ہے                                                 ورنہ تم کیا سمجھتے خدا کون ہے

۱۴؎ یہاں وحی سے مراد وہ بالمشافہ کلام ہے جو رب نے حضور انور کو اپنی ذات اپنا جمال دکھاتے ہوئے فرمایا،فرماتاہے:"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰیاس کلام کی خبر نہ جبریل علیہ السلام کو ہے نہ کسی اور مخلوق کو۔خیال رہے کہ رب نے موسیٰ علیہ السلام سے جو کلام خلوت میں کیا وہ سب حضور کو بتادیا"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"مگر جو کلام اپنے محبوب سے کیا وہ کسی کو نہ بتایا۔معلوم ہوا کہ حضور صاحب اسرار خاص ہیں۔

۱۵؎  فیصلہ الٰہی یہ ہوچکا تھا کہ نمازیں اولًا پچاس فرض کی جاویں پھر موسیٰ علیہ السلام کے عرض و معروض پر پانچ رہیں یہ پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا۔لہذاس اس پر یہ اعتراض نہیں کہ کیا رب کو خبر نہ تھی کہ نمازیں پانچ رہیں گی،رب کو یہ بھی خبرتھی کہ پانچ رہیں گی،یہ بھی خبرتھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی مدد ان کی خواہش سے پانچ رہیں گی،یہ بھی خبرتھی کہ پانچ پانچ کم ہوں گی ۹ بار میں پینتالیس کم ہوں گی۔

۱۶؎  اس کی شرح ابھی کی جاچکی کہ یہاں طاقت نہ رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ مجبور محض ہوں گے بلکہ آسانی والی طاقت مراد ہے۔علی امتك فرماکر یہ بتایا کہ حضور آپ کو پچاس نمازوں میں کوئی تکلف نہ ہوگا آپ کی عام امت پر بھاری پڑیں گی۔

۱۷؎  یہ حدیث مفصّل ہے پچھلی حدیث میں قدرے اجمال تھا پانچ پانچ نمازیں کم ہوئیں نو بار پینتالیس کی معافی پانچ باقی۔جہاں دس کی کمی کا ذکر ہے وہاں دوبار کو ایک دفعہ میں فرمایا گیا ہے اجمالًا اس کے باقی نکات ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔

۱۸؎ یعنی نماز پڑھنے میں پانچ ثواب میں پچاس ہیں ہمارا فیصلہ قائم ہے ترمیم صرف عمل میں کی گئی امت پر تخفیف کے لیے۔

۱۹؎  ھم سے مراد ہے کچا خام ارادہ یعنی جو شخص کسی نیکی کا غیر پختہ ارادہ کرے تب بھی ا س کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جاوے گی اگرچہ وہ کسی شرعی عذر یا ظاہری وجہ سے نہ کرسکے جیسے کسی نے حج کا ارادہ کیا مگر قرعہ میں نام نہ نکلا تو اسے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن