30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باندھتے تھے مگر یہ شارحین یہ نہیں بتاسکے کہ وہ حضرات اپنے براقوں پر سوار کب ہوئے تھے حضور انور تو معراج میں سوار ہوئے ان حضرات کو معراج عطا نہیں ہوئی،اگر یہ معنی کرو کہ آج سارے نبی اپنے اپنے براقوں پر آئے اور انہیں نے اسی حلقہ سے باندھے تو بالکل غلط ہے کیونکہ یہاں ماضی استمراری ہے باندھتے تھے بہرحال یہ ہی معنی قوی ہیں کہ وہ حضرات اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ جس میخ سے انبیاءکرام کی سواریاں بندھا کریں وہ میخ بھی افضل ہوجاتی ہے۔
۴؎ بیت المقدس میں پڑھیں جہاں سارے نبی آپ کے انتظار میں تھے سب نے حضور کے پیچھے یہ رکعتیں ادا کیں۔حقیقت میں حضور کی یہ امامت اس عہد کا ظہور تھا جو میثاق کے دن نبیوں سے حضور کے متعلق اطاعت و فرمانبرداری کا لیا گیا،اعلٰی حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا۔شعر
نماز اسریٰ میں تھا یہ ہی سرعیاں ہوں معنی اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت پہلے کر گئے تھے
۵؎ پچھلی روایت میں گزرا کہ یہ برتن بیت المعمور کے پاس پیش کیے گئے،یہاں ارشاد ہے کہ بیت المقدس کے پاس پیش ہوئے ہو سکتا ہے کہ دونوں جگہ پیش ہوئے ہوں،یا یہ دوسری معراج کا واقعہ ہے جو خواب میں ہوئی تھی۔یہاں شہد کا ذکر نہیں شہد بیت المعمور میں پیش کیا گیا تھا یہاں نہیں،یا روایت میں اجمال ہے۔
۶؎ یعنی اس حدیث کے الفاظ پچھلی حدیث کے کچھ خلاف ہیں مگر معنی ایک ہی ہیں۔
۷؎ یعنی آدھا حسن تو حضرت یوسف علیہ السلام کو تنہا ملا ہے اور آدھا حسن ساری دنیا کو تقسیم ہوا تو آپ کاحسن سارے حسینوں کے حسن کے برابر ہے۔ترمذی نے بروایت انس حدیث بیان کی کہ حضور نے فرمایا الله تعالٰی نے سارے نبی نہایت خوبصورت خوش آواز بھیجے ہیں میں ان سب میں زیادہ حسین اور خوش آواز ہوں لہذا یہاں اس حدیث میں حضور مستثنٰی ہیں۔شیخ ابن حجر مکی نے شرح شمائل میں فرمایا کہ مسلمان یہ اعتقاد رکھے کہ صورت و سیرت کا حسن الله نے سب سے بڑھ کر حضور کو عطا فرمایا، الوہیت کے سوا سارے اوصاف سارے فضل و کمال حضور میں جمع ہیں۔(اشعہ)شعر
کسے بہ حسن و ملاحت بیار مانرسد ترا دریں سخن انکار کار مانرسد
ہزار سکربہ بازار کائنات زدند یکے بخوبی صاحب عیار مانرسد (اشعۃ اللمعات)
یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور کے چہرے میں درودیوار ایسے نظر آتے تھے جیسے آئینہ میں اور فرمایا کہ حسن مصطفی کماحقہٗ صحابہ کو نہیں دکھایا گیا کہ کسی میں اس کے دیکھنے کی طاقت نہ تھی مگر حسن یوسفی کماحقہٗ سب کو دکھادیا گیا،یا اس فرمان کے معنے یہ ہیں کہ یوسف علیہ السلام کو میرے حسن کا آدھا عطا فرمایا گیا یعنی پورا حسن مجھے عطا ہوا مجھ سے آدھا یوسف علیہ السلام کو۔ (مرقات) ؎
حسنِ یوسف سے کہیں بڑھ کر تھا حسنِ مصطفی بات یہ تھی اس کا کوئی دیکھنے والا نہ تھا
۸؎ صاحب مشکوۃ اس روایت میں اور گذشتہ روایت میں فرق رکھاہے ہیں کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کے رونے کا ذکر تھا اس روایت میں اس کا ذکر نہیں گویا یہاں اجمال ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع