دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5863 -[2]

وَعَن ثابتٍ البُنانيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُتيتُ بالبُراق وَهُوَ دابَّة أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ حَافِرُهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ».قَالَ:" ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ خرجتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لبن فاختَرتُ اللَّبن فَقَالَ جِبْرِيل: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ ". وَسَاقَ مِثْلَ مَعْنَاهُ قَالَ: «فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فرحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَقَالَ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ: «فَإِذا أَنا بِيُوسُف إِذا أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَلَمْ يَذْكُرْ بُكَاءَ مُوسَى وَقَالَ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ: " فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثمَّ ذهب بِي إِلَى سِدْرَة الْمُنْتَهى فَإِذا وَرقهَا كآذان الفيلة وَإِذا ثمارها كَالْقِلَالِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشَّى تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا وَأَوْحَى إِلَيَّ مَا أوحى فَفرض عَليّ خمسين صَلَاة كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاة كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَإِنِّي بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ. قَالَ: " فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ". قَالَ: " فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ لَهُ شَيْئًا فَإِنَّ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ". قَالَ: " فَنَزَلْتُ حَتَّى انتهيتُ إِلى مُوسَى فَأَخْبَرته فَقَالَ: ارجعْ إِلى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى استحييت مِنْهُ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے وہ حضرت انس  رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا ۱؎  وہ سفید دراز جانور ہے گدھے سے اونچا خچر سے نیچا اپنی ٹاپ اپنی نگاہ کی حد پر رکھتا ہے ۲؎ میں اس پر سوار ہوگیا حتی کہ میں بیت المقدس میں آیا تو میں نے اسے اس کڑے سے باندھا جس سے حضرات انبیاء باندھا کرتے تھے فرمایا۳؎ پھر میں مسجد میں داخل ہو ا تو اس میں دو رکعتیں پڑھیں۴؎ پھر  میں نکلا تو میرے پاس جبریل علیہ السلام ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے تو میں نے دودھ اختیار کیا ۵؎  تو جبرئیل علیہ السلام بولے کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا پھر ہم کو آسمان کی طرف چڑھایا گیا اور پچھلی حدیث کے معنی بیان کیے۶؎ فرمایا کہ ہم جناب آدم علیہ السلام کے پاس تھے انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور مجھے دعا خیر دی فرمایا پھر تیسرے آسمان میں پہنچے تو میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تھا انہیں دیا گیا ہے آدھا حسن ۷؎ انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور میرے لیے دعا خیر کی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کا رونا ذکر نہیں کیا ۸؎  اور فرمایا کہ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ہم جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھے جو بیت المعمور سے اپنی پیٹھ لگائے تھے ۹؎  اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر کبھی وہاں لوٹ کر نہیں آتے۱۰؎ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے ۱۱؎  اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح تو جب اسے الله کے حکم سے وہ نورانیت چھا گئی تو سدرۃ ایک دم بدل گیا۱۲؎  الله کی مخلوق میں کوئی نہیں جو اس کی خوشنمائی بیان کرسکے۱۳؎  رب نے میری طرف جو وحی کی وہ کی۱۴؎  پھر مجھ پر پچاس نمازیں ہر دن و رات میں فرض فرمائیں ۱۵؎  پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک اتر کر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا کہ ہر دن و رات میں پچاس نمازیں انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف لوٹیےاس سے ہلکا کرنے کی درخواست کیجئے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی ۱۶؎  میں تو بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ان پر تجربہ کرلیا ہے،فرمایا پھر میں اپنے رب کی طرف لوٹا میں نے عرض کیا یارب میری امت پر تخفیف فرما تو اس نے پانچ نمازیں کم کردیں ۱۷؎  پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں نے کہا کہ مجھ سے پانچ کم کردیں انہوں نے کہا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اس سے کمی کا سوال کریں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان دورہ کرتا رہا حتی کہ فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہر دن و رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز کا دس گناہ ثواب تو یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں ۱۸؎  جو کوئی کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر وہ کرے نہیں تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاوے گی ۱۹؎  پھر اگر وہ یہ کر بھی لے تو اس کے لیے دس لکھوں گا۲۰؎  اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لیے کچھ نہیں لکھوں گا ۲۱؎ پھر اگر وہ کرلے تو اس کے لیے ایک ہی گناہ لکھا جاوے گا۲۲؎  فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف اترا میں نے انہیں یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس ہوجائیے اس سے کمی کا سوال کیجئے تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف اتنا لوٹ چکا کہ اب میں اس سے شرم کرتا ہوں۲۳؎  (مسلم)

۱؎ حضور انور براق پر سوار ہوئے مسجد حرام شریف میں پھر اسی براق پر سوار ہوئے مسجد اقصیٰ سے آسمان تک سفر میں،ساتویں آسمان سے آگے براق رہ گیا۔رفرف یعنی قدرتی تخت حضور کو اوپر لے گیا پھر عرش اعلٰی سے اوپر بغیر کسی سواری کے تشریف لے گئے،ادھر سے خطاب تھا ادن یامحمد اے محبوب اور قریب آئیے،ادھر سے ایک قدم حضور آگے بڑھاتے تھے ایک قدم میں ہزارہا پردے طے ہوجاتے تھے۔

۲؎  لہذا براق ایک قدم میں آسمان پر پہنچا مگر یہ رفتار خراماں تھی حضرات انبیاءکرام براق سے پہلے اپنے اپنے مقام پر حضور کے استقبال کے لیے پہنچ چکے تھے۔

۳؎  یہ کڑا اس گنہگار نے دیکھا ہے،اب وہ زیر زمین ہے تہہ خانہ میں واقع ہے،پیتل کا ہے،بہت باریک رہ گیا ہے،ایک دیوار میں نصب ہے،وہاں لوگ برکت کے لیے نوافل پڑھتے ہیں یعنی حضرات انبیاءکرام جب بیت المقدس میں سواریوں پر آتے تھے تو اس حلقہ سے ہی باندھتے تھے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر نبی کو رب تعالٰی نے براق عطا فرمائے تھے جو اسی حلقہ سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن