30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۰؎ یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر۔اسے منتہی چند وجہ سے کہتے ہیں: ایک یہ کہ فرشتوں کے علم کی انتہاء یہاں ہے اس سے اوپر کی خبر کسی فرشتے کو نہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انورکے سواء کوئی نبی یہاں سے آگے تشریف نہ لے گئے۔تیسرے یہ کہ سب سے بڑے فرشتے حضرت جبریل کی انتہا یہاں ہی ہے کہ وہ اس سے آگے نہیں بڑھتے۔چوتھے یہ کہ لوگوں کے اعمال یہاں تک ہی بذریعہ فرشتے کے پہنچتے ہیں پھر یہاں سے اوپر اٹھائے جاتے ہیں،یوں ہی احکام الٰہی اوپر سے یہاں تک آتے ہیں پھر فرشتے یہاں سے لیتے ہیں۔بہرحال یہ بیری چند وجہوں سے منتہیٰ یعنی ختم ہونے کی جگہ ہے،یہاں اضافت موصوف کی صفت کی طرف ہے۔(مرقات)
۳۱؎ ہجر یمن کا ایک شہر ہے جہاں کے مٹکے بہت بڑے ہوتے ہیں۔فرمایا اس بیری کے بیر مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح ہیں۔خیال رہے کہ تمام درختوں میں بیری افضل ہے اس کے بعد کھجور کا درخت۔
۳۲؎ یعنی اس بیری کے درخت کی جڑ سے چار نہریں نکل رہی ہیں: دو تو ظاہر بہتی ہیں اور دو زمین دوز جیسے مکہ معظمہ میں نہر زبیدہ۔
۳۳؎ یہ جنتی نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں یا کوثر اور نہر رحمت۔
۳۴؎ معلوم ہوا کہ نیل اور فرات بڑی اشرف و اعلٰی نہریں ہیں کہ ان کی اصل جنت سے ہے۔
۳۵؎ اس طرح کہ بیت المعمور تک پہنچایا گیا اور وہ میرے سامنے آیا جیسے لاہور جانے والا کہتا ہے کہ لاہور آگیا یعنی میں لاہور آگیا۔بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ ہے،کعبہ معظمہ کے مقابل ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے وہاں فرشتوں کو نماز پڑھائی جیسے بیت المقدس میں نبیوں کو پڑھائی تھی۔اعلٰی حضرت فرماتے ہیں۔شعر
یہ نور سدا سماں پہ بندھا یہ سدرہ اٹھا وہ عرش جھکا صفوف سمانے سجدہ کیا ہوئی جو اذاں تمہارے لیے
۳۶؎ وہاں دین فطرت دودھ کی شکل میں دکھایا گیا،دودھ ہی دنیا میں انسان کی پہلی غذا ہے اس کا رنگ سفید ہے اور سفید رنگ تمام رنگوں کی اصل ہے۔فطرت کی اصل شریعت کی اتباع ہے انتہا وصول الی الله ہے۔آج بھی جو خواب میں دودھ پئے تو اس کی تعبیر فطرت علم دین اور اسلام پر استقامت ہوتی ہے(اشعہ،مرقات)اگرچہ شہد بھی اچھی چیز ہے مگر اس میں دودھ کی سی سفیدی صفائی غذائیت نہیں ہے،یہ شراب جنت تھی جو حرام نہیں۔
۳۷؎ نماز کی فرضیت لامکان میں پہنچ کر ایسے مقام پر ہوئی جہاں نہ مکان تھا نہ مقام،نہ یہاں تھا نہ وہاں۔یہ خاص تحفہ تھا جو امت محمدیہ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دیا گیا،حضور انور تو پہلے ہی سے نمازیں ادا کرتے تھے۔
۳۸؎ یعنی چھٹے آسمان پر۔معلوم ہوتا ہے کہ واپسی میں بھی حضور انور سے تمام نبیوں نے اسی ترتیب سے ملاقات کی جس ترتیب سے جاتے وقت ملاقات کی تھی،یہ ہی سواریوں کا حال تھا کہ براق رفرف وغیرہ جس ترتیب سے حضور کو لے گئے تھے اسی ترتیب سے واپس لائے۔
۳۹؎ یہ ہے موسیٰ علیہ السلام کا علم غیب کہ امت محمدیہ جو ان کے بہت بعد ہے اور تاقیامت رہے گی اس کی طبعی کیفیت سے خبردار ہیں۔واقعی اگر نمازیں پچاس رہتیں تو چوبیس گھنٹہ میں پچاس نمازیں سخت بھاری پڑتیں نمازوں کے بعد کوئی وقت ہی نہ بچتا جو دوسرا کام کیا جاتا،کھانا کمانا سونا وغیرہ سب بند ہوجاتے۔خیال رہے کہ طاقت سے زیادہ کی تکلیف دینا رب کا قانون نہیں "لَا یُکَلِّفُ اللهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا"۔یہاں تکلیف نہیں کیونکہ یہ حکم امت تک پہنچا ہی نہیں جب ان تک پہنچا تو آسان بن چکا تھا لہذا اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع